رائے صابرتیری عظمت کوسلام۔۔

رائے صابرتیری عظمت کوسلام۔۔

مناظرعلی


یہ کوئی ایک دہائی سےزائد پرانی بات ہےکہ سینئرصحافی افتخارکاظمی،ارشدیاسین،سیدفاطرولید،ناصرشیرازی،راناشہزاد،ناصرعرشی،شہزادسرفراز،سیدشاہدعلی اورچنددیگردوستوں کے ہمراہ واہگہ بارڈرکے قریب وسیع وعریض میڈیاہاؤس میں سارا دن گزرتاتھا جہاں ایک طرف نیوزروم اوردوسری طرف شوبزکے ستاروں کی آمدورفت جاری رہتی تھی جس کاسہراسینئرپروڈیوسرندیم فضل کے سرتھا.

چینل کے ڈائریکٹرظفرسدھوبھی خاصے ملنسارتھے اورابھی تک ہیں،سبھی اس باغیچے کے خوبصورت پھول تھے مگران تمام سے الگ تھلک اس میڈیاہاؤس میں ایک انسان ایسا بھی تھاجواپنی ذات میں ایک مخزن علم تھا،جسے سکھانے کاجنون کی حدتک شوق تھااورجسے خود سے جڑےہرشخص کی فکردامن گیررہتی تھی،ترقی کی منازل طے کرنے کے گرہوں یاپھرخبربنانے کے رموز،ہیڈلائنزنکھارنے کی بات ہویاپھرخبرسے خبریت کی نشاندہی،جنرل نالج کی بات ہویاپھرتحریرمیں رنگ بھرنے کی بات،پیشہ وارانہ ذمہ داروں کیساتھ ساتھ اسے دوستی نبھانےاوررشتے داروں کیساتھ تعلقات استواررکھنے تک سبھی پرمکمل عبورحاصل تھا.

اپنے موقف پرخود کوسچاثابت کرنے کیلئے اس کے پاس دلائل کاپہاڑتھاحتی کہ کسی ٹاک شوکودیکھ کراگلے روزمتعلقہ اینکرکی بحث پر اپنے دلائل دینااورپھرکئی بارانہیں ای میل تک کردیناکہ آپ نے یہ بات غلط کہی تھی،غزوہ ہندکے معاملے پروہ اوریامقبول جان جیسے معروف کالم نگارسے خط وکتاب اورای میل کاتبادلہ کرتے تھے،ایک روزاچھرہ میں ایک نشست کے دوران انہوں نے موجودہ سیاسی حالات پرایسی ایسی پیشگوئیاں کیں جوتب کسی کویقین نہیں آرہاتھا مگرآج وہ سب سچ ثابت ہوچکی ہیں،تب تحریک انصاف کے برسراقتدارآنے کی کسی کوامید نہ تھی اوران کا کہناتھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں پیچھے رہ جائیں گی اورتحریک انصاف حکومت بنائے گی حالانکہ وہ خود ایک صحافی ہونے کیساتھ ساتھ ایک مذہبی سیاسی تنظیم کے نظریات سے متاثرتھے۔

میں جس شخص کی بات کررہاہوں،وہ گزشتہ روزطویل علالت کے بعددنیافانی سے داربقامنتقل ہوگئے ہیں،اللہ تعالیٰ سینئرصحافی رائے صابرحسین کوجوار رحمت میں جگہ عطافرمائے اورلواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے۔

رائے صابرحسین کی شخصیت اپنے نام کی معنویت پربھی پورا اترتی رہی،میڈیاانڈسٹری میں اپنی زندگی کازیادہ ترحصہ گزارنے کے دوران انہوں نے بہت سے نشیب وفرازدیکھےجن میں سے کچھ توہمارے سامنے تھے اورکچھ وہ خود بتایاکرتے تھے،ان سب کے باوجودانہوں نے صبروشکرسے زندگی گزاری،ایام علالت میں ان سے ملاقاتیں اورٹٰیلی فونک رابطے رہے،انہیں کبھی مایوس نہیں پایا،وہ صابرتھے اس لیے خدا کی مرضی پرکبھی شکوہ کناں نظرنہیں آئے بلکہ اللہ تعالیٰ سے پُرامیدرہے اورہمت سے بیماری کوشکست دینے کیلئے کوشاں رہے،ہم سب دوست آپس میں گو کہ یہی کہتے رہے کہ رائے صاحب کی حالت خاصی تشویشناک ہے مگران کے منہ سے ہمیشہ یہی سناکہ میں بہترہورہاہوں اوربہت جلدگاؤں سے واپس آکردوبارہ میڈیاجوائن کروں گا،لکھنے پڑھنے کاشوق ان کے اندرکوٹ کوٹ کربھراہواتھا اوروہ ایک پرنٹںگ پریس کی منصوبہ بندی کرتے تھے مگربیماری نے ان کے ہاتھ باندھے رکھے۔

لاہورپریس کلب،باغ جناح،لکشمی چوک یا پھر عباسی ٹی سٹال پرانی انارکلی میں اکثراوقات دوستوں کی میٹنگ کابندوبست کرتے اورصحافیوں کی فلاح وبہبود کے منصوبوں پرتبادلہ خیال ہوتا،وہ کارکن صحافیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ہمیشہ فکرمندرہے اوراس کیلئے عملی اقدامات کرنے کی کوشش بھی کی،یہ الگ بات ہے کہ جوں جوں ان کاجذبہ جواں ہوتانظرآیا،اسی رفتارسے بیماری نے انہیں بسترتک محدود کردیا،میں نے میڈیامیں ایسے لوگ انتہائی کم دیکھے ہیں جنہیں ساتھ بیٹھے شخص کوسکھانے کاشوق ہو،جنہیں رپورٹرزکی خبریں درست کرنے کیساتھ ساتھ انہیں پاس بلاکرپیارسے سمجھانے کی تڑپ ہو،میں نام لکھے بغیریہ ذکرکرناچاہتاہوں کہ ایک رپورٹرکے بارے میں اکثران سے سنتاتھا،یاراس کی خبرکواس نظرسے نہ دیکھاکریں کہ درست نہیں بنی بلکہ اس شخص کودیکھاکریں کہ وہ کوشش کرتاہے.

اگرہم حوصلہ افزائی کیساتھ ساتھ اسے پیارسے سمجھائیں گے تویہ سیکھ جائے گا،اگرڈانٹیں گے یاخبریں روک دیں گے توپھروہ سیکھ نہیں پائے گا،وہ ایسا اس لیے کہتے کہ انہیں دوسروں کی فکر تھی،کسی کیلئے مشکلات پیدا کرنے کے حق میں نہیں تھے،بلکہ آسانیاں پیداکرنے کی خواہش تھی۔وہ صحافت میں نئے آنے والوں کوکتاب اوراخبارروزانہ پڑھنے کی تلقین کرتے تھے ،وہ کہتے تھے کہ ایک صحافی کواپنافن زندہ رکھنے کے لیے یہ خوراک لازمی کھاناپڑتی ہے،اگروہ ایسانہیں کرے گاتوسمجھیں کہ اس کی موت ہے۔

رائے صابرسے جڑی ہزاروں باتیں ہیں جنہیں لکھتے لکھتے کئی دن گزرجائیں مگروہ باتیں ختم نہ ہوں،زندہ دل انسان آج اس دنیامیں زندہ نہیں مگردوستوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا،رائے صابرتیری عظمت کوسلام۔۔۔

مناظر علی

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی

لکھی ہے۔