جو پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں وہ کبھی زندہ نہیں رہیں گے: خورشید شاہ


اسلام آباد (24نیوز) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے آخر میں بھٹو زندہ باد کےنعرے لگادئیے، ڈپٹی اسپیکرنے اعتراض اٹھایا تو خورشید شاہ پھر کھڑے ہوگئے,اپوزیشن ںے  کہا کہ نواز شریف اور عمران خان اداروں کی توہین کرتے ہیں،اپنی ناکامی چھپانے کیلئے جو لفظ استعمال کیا گیا وہ لفظ میں استعمال نہیں کرسکتا، ہر اس شخص کے منہ میں خاک جوایسا لفظ استعمال کرتا ہے،اپنی ناکامی چھپانے کیلئے جو لفظ استعمال کیا گیاوہ لفظ میں استعمال نہیں کرسکتا،آج بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو کسی حکمران میں ہمت نہ ہوتی کہ پاکستان کے مخالف بیان دے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کی اورآخر میں انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا مگر پھر بھٹو زندہ باد کہہ کر جذباتی ہوگئے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں وہ کبھی زندہ نہیں رہیں گے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ اس ملک کی سیاست الگ رخ پر چل پڑی ہے،جو ہماری بد قسمتی ہے،پیپلزپارٹی پر کیا کیا کیسز نہیں بنائے گئے، پھربھی ہم نے اداروں کی توہین نہیں کی، ہمارے وزیراعظم کو ایک سیکنڈ میں نکال دیاگیا پھربھی ہم نے توہین نہیں کی،ہم ہر اداروں کو مضبوط کرناچاہتے ہیں، کیا آپ پارلیمنٹ کو تالا لگا کر آمر کو بلانا چاہتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مردان میں زیادتی کے واقعے کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اس پارلیمنٹ نے ملک کو ایٹمی پاور بنایا، مخالفین کہتے ہیں کاش بھٹو ہوتا تو اسرائیل نہیں ہوتا،امریکا سے ڈکٹیشن نہیں لی جاتی،عدالتوں کو ایسے فیصلے کرنے چاہیے کہ دنیا میں مثالیں دی جائیں، عدالتیں ایسے فیصلے کریں جو ملک کے حق میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روزاحتجاج میں کنٹینرپرہماری پارٹی بھی موجودتھی،گزشتہ روزاحتجاج کے 2سیشن ہوئے،جس میں اس بات پر احتجاج کیا گیا کہ ملک میں قانون نظرنہیں آتا،قصورپارلیمنٹ کانہیں ہے،جوسمجھتاہے قصورپارلیمنٹ کاہے وہ سیاست چھوڑدیں،ملک کا آخری سہارا پارلیمنٹ ہو گی، پارلیمنٹ نے ہمیں حق مانگنے کی ہمت دی، آپ اداروں کی توہین کرنے میں لگے ہوئے ہیں،بڑے بڑے اداروں کے لوگوں نے پارلیمنٹ میں آکر بریفنگ دی۔

مزید جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں: