یاد رکھنے اور پرکھنے کی باتیں

تحریر:عمر وسیم پنسوتہ

یاد رکھنے اور پرکھنے کی باتیں


پچھلے دنوں ایک بہت ہی مخلص اور محب وطن پاکستانی نوجوان نے مجھے کال کی ۔ اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے وہ کچھ کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔کچھ بڑا !

اور اس کی کہانی اسی کی زبانی سنتے ہیں :

"سر ! ہم ایک یوتھ کی سوسائٹی بنا رہے ہیں جس میں یونیورسٹی کی سطح کے طلبہ و طالبات ہوں گے اور ہم رضاکارانہ خدمات سرانجام دیں گے ۔۔۔میں نے اس کے خلوص کو داد دی ( کیونکہ اس کے خلوص میں کوئی شک نہیں تھا) ۔۔۔اور پوچھا کہ آپ یہ کیوں کرنا چاہ رہے ہیں ۔۔۔۔تو اس نے کہا کہ سر اس سے ہم معاشرے کے کام کریں گے۔۔۔۔بہت اچھا ۔۔۔۔۔کیا کام کریں گئے۔۔۔؟ جواب آیا ۔۔۔۔۔کہ ابھی کوئی فائنل نہیں ہوا ۔۔۔۔بس ہمارا جذبہ ہے کچھ کرنے کا۔۔۔۔

بات یہاں تک رہے تو پھر بھی کچھ سوچا جا سکتا ہے۔۔۔لیکن جیسے ہی بات آگے بڑھتی ہے تو ۔۔۔یوتھ کے نام پر کاروبار (جس کے لیے شاید دھندے) کا لفظ ٹھیک رہے گا ۔۔۔۔۔شکاری شکنجہ تیار کئے بیٹھے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ہوتا کیا ہے ۔۔؟سادہ دل اور معصوم نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے ۔۔۔لیکن یوتھ کے نام پر بہروپیا نما انسان ان کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ۔۔۔۔شباب (نوجوانی ) کے دور میں کباب کے ساتھ (Get to gathers) کے نام پراکٹھ ہوتے ہیں ۔۔۔۔دوستیا ں ہوتی ہیں اور اصل مقصد کہیں کوڑ کباڑ کے ناکارہ کونے میں چلا جاتا ہے ۔۔۔۔اور نوجوان اپنے عمر کے اس حصے میں جو اس کے بننے یابگڑنے کے اہم دن ہوتے ہیں سے دور ہوجاتےہیں ۔۔۔۔۔۔

موٹیویشنل ٹریننگ

اس کے ساتھ ہی موٹیویشنل ٹریننگ کے نام پر نوجوانوں کو کچھ دیر کے لیے دل فریب دنیا میں رکھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔وہ اپنے آپ کو ہوائوں میں اڑتا محسوس کرتا ہے ۔۔۔۔دنیا کا فتح کرنے کا عارضی خواب لے کر سیشن ہال سے باہر نکلتا ہے ۔۔۔اور پھر حالات کے پہلے ہی تھپیڑے کے نتیجے میں ساحل پر بچوں کے بنائے ہو ئےگھروندئے کی مانند ڈھیر ہوجاتاہے ۔۔۔۔۔۔ ترغیب ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ درست سمت (Right Direction) اوراپنے آپ کو جانے بغیر منزل کہیں گم اور کھوئی ہوئی رہتی ہے ۔۔۔۔خواب دیکھنا بہت ضروری ہے لیکن درست خوابوں کو عمل کی دنیا میں لانے کے لیے اقدامات کرنے کی اس سے زیادہ کرنے کی اس سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو ہر وقت موٹیویشنل سپیکر سے ایک آئیڈیل دنیا کا انجکشن تو لگواتے ہیں  لیکن کچھ کرنا پڑئے تو ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں ۔۔۔۔من کی دنیا کو جاننے کی جستجو کے بغیر موٹیویشن ایک عارضی سہارا تو ہو سکتا ہے لیکن مستقل فرسٹریشن کی جانب لے جانے والی چیز ہے کیونکہ ہر دفعہ موٹیویشن کی ڈوز (Potency) بڑھانے کی ضرورت پڑتی  ہے ۔

ٹریننگ سیشن کے بعد جب وہ باہر نکلتا ہے تو دنیا کچھ اور ہوتی ہے یہ ایسے ہی جیسے ماسٹر کا طالب علم ڈگر ی کرتے ہوئے ایک آئیڈیل دنیا کا تصور کرتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو دنیا کو اور انداز میں دیکھتا ہے اس میں قصور اس طالب کا نہیں بلکہ اس استاد ہے جو اس کو حالات کی نازک اور اصل صورت حال سے آگاہ نہیں کرتا ۔

یہ تو ایک مختصر سا مسئلہ ہوگیا اب اس کا حل کیا ہے ۔۔۔۔؟

اس کا بہت آسان سا حل ہے ۔۔۔ماضی کے جھرونکوں میں ارسطو سے لے کر آج تک استاد وہ ہوتا ہے جو آپ کو آپ کی درست منزل کار استہ دکھاتا ہے ۔۔۔

ضرور پڑھیں:ڈالر سستا ہوگیا

تربیت (ٹریننگ) ہمارے  اور اسا تذہ کے نزدیک (ماضی میں بھی اور اب بھی ) اصل میں مربی ((Mentor کا کردار ہے ۔۔۔جو انسان 

1. جو کہتا ہے اس پر خود عمل نہیں کرتا یا اس کی زندگی میں وہ چیز نظر نہیں آتی وہ آپ کا استاد/ٹرینر/مربی نہیں ہو سکتا۔

2. جو بھی آپ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے وہ آپ کا استاد نہیں ہوسکتا ۔

3. جو بھی آپ کو شارٹ کٹ بتاتا ہے اور آپ کو آپ کےدرست ذوق (Passion) کو پانے میں مدد نہیں کرتا وہ آپ کا استاد/ٹرینر/مربی نہیں ہو سکتا۔

4. جو دنیا کے تھوڑئے کو بہت کرنے کا فن جانتا ہو اور اس نے دنیا دیکھی ہو اور مفاد کی مکھی بننے کی بجائے دنیا تقسیم کرنے والا ہو اور بڑی منزل کا مسافر ہو ۔

5۔ جو اپنے آپ کو(میں) نفی کر کے ہم کا زاویہ اپنے من میں رکھتا ہو۔

آپ صرف ان پانچوں معیارات (Standards) کی عینک سے دیکھ لیں ۔۔۔اگر وہ اس میں سارے پر پورا اترے تو سبحان اللہ ۔۔۔۔ نہیں تو صرف تین پر پورا اتریں تو ۔۔۔۔بسم اللہ کریں ۔۔۔۔نہیں تو راستہ بدل لیں ۔۔۔۔۔۔یاد رکھیں انسان کو موٹیویشن اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ غذا لیکن موٹیویشن کی ڈائریکشن (سمت) غلط ہوئی ۔جس کا فوری معلوم نہیں ہوتا ۔۔۔۔اور جب ہوتا ہے تو بقول شخصے پانی پلوں کے نیچے سے بہت آگے گزر چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔اس لیے خود بھی اس میٹھے اور اندھے فریب سے نکلیں اور دوسروں کو بھی نکالیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ:یہ بلاگر کی اپنی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔