کراچی، نرسز کا وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ، پولیس کا لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال

کراچی، نرسز کا وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ، پولیس کا لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال


کراچی(24نیوز) کراچی میں مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والی سندھ بھر کی نرسوں کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ پر پولیس نے دھاوا بول دیا ۔ واٹر کینن استعمال کیا ۔ لاٹھی چارج کیا گیا ۔  20 سے زائد نرسز کو حراست میں بھی لیا ۔  بعد میں وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر حراست میں لئے تمام مظاہرین کو رہا کردیا گیا ۔

کراچی پریس کلب ایک بار پھر میدان جنگ  بن گیا۔ 15 دن سے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والی نرسز کا صبر آخر ٹوٹ گیا  اور انہوں نے پریس کلب سے احتجاج کا رخ موڑ کر وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پی آئی ڈی سی ٹریفک پولیس چوکی کے سامنے روک دیا، مظاہرین کے آگے جانے کی کوشش پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی ۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور متعدد مظاہرین کو بھی حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔نرسوں کے احتجاج کے باعث پی آئی ڈی سی جانے والے راستے کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ ٹریفک کو ایم آر کیانی روڈ اور سلطان آباد کی طرف موڑ دیا گیا ۔

ٹریفک جام کے باعث پی آئی ڈی سی سےشاہین کمپلکس تک ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئیں جس میں اسکول کی گاڑیاں بھی پھنس گئیں، پولیس نے شاہین کمپلیکس سے ضیاءالدین روڈ ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔

دوسری جانب نرسز کے احتجاج پر وزیراعلیٰ سندھ نے بھی نوٹس لیا اور حراست میں لئے تمام مظاہرین کو رہا کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کل جب سیکریٹری صحت سے تمام معاملات طئے ہوگئے تھے تو احتجاج کا جواز نہیں بنتا تھا، ایک سیاسی جماعت نرسز کے معاملات کو سیاسی رنگ دینا چاہتی ہے جو افسوسناک عمل ہے ۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔