نوازشریف،مریم اورکیپٹن صفدراحتساب عدالت کو بیان ریکارڈ نہ کرواسکے


اسلام آباد(24نیوز) نوازشریف ،مریم نواز اورکیپٹن ریٹائرڈصفدربیان ریکارڈ کرانے احتساب عدالت پہنچے لیکن ملزمان کی جانب سے بیان ریکارڈ نہ کروایا جاسکا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایون فیلڈریفرنس کی سماعت آج ہوئی، نواز شریف،  مریم نواز اور کیپٹن صفدر آج بیانات ریکارڈ کروانے احتساب عدالت پہنچے۔ جبکہ شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔

یہ بھی پڑھیں: اب سب کا حساب ہوگا، ہم سب کو حساب دینا ہوگا: نواز شریف 

لیکن  ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کے سلسلے میں شریف خاندان کی جانب سے بیانات ریکارڈ نہ کروائے جاسکے۔سماعت شروع ہوئی تو  وکیل صفائی خواجہ حارث نے ملزمان کو دیئے گئے سوالنامہ پر اعتراض کر دیا۔خواجہ حارث نے کہا کہ کچھ سوالات کی سمجھ نہیں آرہی جس کے جواب میب پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر  عباسی نے کہا کہ خواجہ حارث عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ہمارے تعاون کے باوجود وکیل صفائی تعاون نہیں کر رہے۔ 

احتساب عدالت کے جج نے سماعت 21 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس آخری چانس ہے پیر کو ملزمان کے بیانات عدالت کو دیں ۔واضح رہے کہ نوازشریف،مریم اورکیپٹن صفدرکوسوال نامہ پہلے دیا جا چکا ہے۔ 28 صفحات کے سوال نامہ میں 127 سوال شامل ہیں۔

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔