گرانفروشوں،حکمرانوں نے رمضان المبارک کو کمائی کا ذریعہ بنالیا


لاہور( 24نیوز )دنیا بھر میں جب رمضان آتا ہے تو اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں گرادی جاتی ہیں، غیر مسلم ممالک میں بھی ریلیف دیا جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا سمیت یورپ کے تمام ممالک میں اشیاءخورد و نوش سستی کردی جاتی ہیں، لیکن پاکستان وہ ملک ہے جہاں ہر شے دگنی قیمتوں پر فروخت کرکے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے۔
ملک بھر کی طرح رمضان المبارک میں مہنگائی کا جن پشاور میں بھی بے قابو ہوتا جارہا ہے افطار میں دسترخوان کی زینت بننے والے پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی، رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی پشاور میں اشیائے خورد و نوش کے ساتھ ساتھ پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے عوام پریشان ہیں،رمضان سے پہلے ایک کلو تربوز بیس روپے کلو تھے لیکن اب تیس روپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔۔ سیب سو روپے کی بجائے ایک سو پچاس روپے اور آم سو کی بجائے ایک سو پچاس روپے میں فروخت کئے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سحری اورافطارمیں کیا کھائیں؟ کیا نہ کھائیں؟ دیکھئے اس ویڈیو میں
لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ رمضان میں ہر جگہ سستے بازار لگائے جائینگے لیکن ابھی تک ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
ہمارے ہاں جس کام کو نہ کرنے کا وعدہ یا اعلان کیا جاتا ہے اس کے بالکل برعکس عمل کیا جاتا ہے،مثال کے طور پر چند روز قبل حکومت کے تمام کارندے،سازندے حتیٰ کہ وزیر اعظم نے بھی کہا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران شہروں میں چار اور دیہات میں چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جائے گی جبکہ سحر، افطار اور تراویح کے اوقات میں لوڈشیڈنگ ببالکل نہیں ہوگی، لیکن مجال ہے کہ وزیراعظم کے احکامات پر کسی نے بھی کان دھرے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:ماہ رمضان کی آمد،  تمام بینکوں نے زکوٰۃ کا شیڈول جاری کر دیا

بات سحری یا افطاری کی ہو یا پھر تراویح کی، بجلی مشکل سے ہی نصیب ہوتی ہے، پہلی سحری افطاری میں لوگ بجلی ڈھونڈتے پھرتے رہے،کراچی سمیت پورا سندھ اندھیرے میں ڈوبا رہا ہے،پختونخواہ کی بات کریں تو وہاں شہریوں نے بجلی نہ ملنے پر گرڈ اسٹیشن پر ہی قبضہ کرنا شروع کردیا ہے، بلوچستان میں تو حالات اِس سے بھی گئے گزرے ہیں، جبکہ پنجاب کے دارالحکومت اور حکمرانوں کے شہر میں بھی ایسا ہی حال دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ہمارے حکمراں ناجانے کیوں نہیں سمجھتے کہ دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس پر وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں۔ حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پورا سال تو ظلم و زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں، کم از کم ایک رمضان کے مبارک مہینے کو تو بخش دیں، اتنا ہی کمائیں جس کا رب کے حضور جواب دے سکیں۔ جھوٹ بول کر سیاست کی دکان چمکانے سے عارضی چھٹکارا تو مل جائے گا لیکن مستقل چھٹکارا پانا مشکل ہوجائے گا۔
روزے کا صحیح فائدہ اٹھانا ہے تو آس پاس کے لوگوں کو یاد رکھیں، یہ نہ ہو کہ آپ پیٹ بھر کر سحری کرلیں، افطار کے وقت انواع و اقسام کے کھانے ہڑپ کرجائیں اور پڑوس میں کوئی بھوکا سوجائے، کوئی فاقوں سے مرجائے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں