زمبابوے کی حکمراں جماعت نے صدر موگابے سے استعفےٰ کا مطالبہ کردیا

زمبابوے کی حکمراں جماعت نے صدر موگابے سے استعفےٰ کا مطالبہ کردیا


 (ویب ڈیسک): زمبابوے کی حکمراں جماعت نے صدر موگابے سے استعفےٰ اور خاتون اول سے پارٹی چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔ فوج نے بھی صدر مخالف مارچ کی حمایت کر دی، امریکہ کا صورتحال پر اظہار تشویش۔

 

زمبابوے کی حکمراں جماعت نے صدر موگابے سے استعفے اور خاتون اول سے پارٹی چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔ صدر موگابے کی جانب سے نائب صدر اور سابق فوجی ایمرسن مننگاوا کی برطرفی کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے جب کہ فوج اور صدر کے درمیان جاری کشیدگی سے ملک میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

 

زمبابوے کی حکمراں جماعت نے صدر موگابے سے فوری استعفےٰ کا مطالبہ کردیا اور خاتون اول کو بھی پارٹی چھوڑنے کا کہا گیا ہے لیکن صدر موگابے نے مستعفی ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زمبابوے کے واحد قانونی صدر ہیں۔ 1980 سے اقتدار پر براجمان زمبابوے کے صدر موگابے سے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے مخالفین کی بڑی تعداد ہرارے میں احتجاجی ریلی کے لیے جمع ہوگئی اور فوج نے بھی صدر مخالف مارچ کی حمایت کردی ہے۔

 

دوسری جانب امریکا نے زمبابوے کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں سویلین حکمرانی کی فوری بحالی پر زور دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے زور دیا ہے کہ زمبابوے میں فوری طور سویلین حکمرانی بحال ہونی چاہیے، یہ زمبابوے کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ نئے راستے کا انتخاب کرے، ملک میں فوری طور پر انتخابات کا انعقاد کرایا جائے اور انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔