سانحہ کارساز کی قیامت صغریٰ کو 11برس بیت گئے

سانحہ کارساز کی قیامت صغریٰ کو 11برس بیت گئے


کراچی (24نیوز) سانحہ کارسازکوگیارہ برس بیت ہوگئے، اٹھارہ اکتوبرکومحترمہ بے نظیربھٹو کے جلوس پرکراچی میں خودکش حملہ کیاگیا۔ حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن دو سو سے زائد جیالوں نےجانوں کےنذرانے پیش کرکے جمہوریت کوبحال کرایا۔

سیاست کے میدان کارزار میں سفر , اور عوام کی آواز بن کر جمہوریت کی بحالی, اٹھارہ اکتوبر کی صبح پاکستان کی تاریخ کا سورج خوشی وغم کے یکساں جذبات کے ساتھ طلوع ہوا.کشمیر سے کراچی تک سب ہی جیالے اور جمہوریت کے متوالے خوش تھے کہ بی بی آئے گی، آمریت کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے اور جمہوری دور کا آغاز ہوگا۔

بے نظیر بھٹو جلاوطنی اور اپنے عوام سے دوری کی پابندیاں ختم کرکے کراچی پہنچیں ،  استقبال کے لئے آنے والوں کے تاحد نگاہ سر ہی سر نظر آرہے تھے, بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی سے روکنے میں دھمکیاں کام آئیں نہ لالچ نے اثر دکھایا۔ اٹھارہ اکتوبر دوہزار سات کی شام بے نظیر بھٹو کا قافلہ لاکھوں جیالوں اور جانثاران کے ساتھ شاہراہ فیصل پر تھا۔

امن، وطن اور جمہوریت کے دشمنوں کو یہ سب کچھ نہ بھایا۔ کارساز کے مقام پر بے نظیر بھٹو کے قافلے کو خود کش دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ جس میں بے نظیر بھٹو شہید بال بال بچ گئیں۔دھماکے میں دس بیس نہیں دوسو سے زائد جیالوں کو بحالی جمہوریت کی پاداش میں شہید کردیا گیا.

سانحہ اٹھارہ اکتوبر کارساز کا واقعہ سیاسی تاریخ کا کربناک واقعہ ہے اور سیاسی کارکنوں کے صبر کا بھی انمول سبق  ہے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی جان پر حملہ بھی انہیں عوام سے دور نہ کرسکا۔سانحہ کارساز میں شہید ہونے والے 200 سے زائد افراد کے لواحقین اور زخمی آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

وقار نیازی(Waqar Niazi)

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔