”اربوں روپے درخت کی پتوں کی طرح اڑا دیے گئے“

”اربوں روپے درخت کی پتوں کی طرح اڑا دیے گئے“


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ میں تھرکول پاور پراجیکٹ اوردرختوں کی کٹائی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی گئی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے تھرکول پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں تھرکول پاور پراجیکٹ منصوبے سے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے، دیکھا جائے اس منصوبے میں کوئی کرپشن تو نہیں ہوئی منصوبہ دو سال سے بند ہے ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دی گئیں،جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ رمیش کمار ایک ماہر کےمطابق یہ منصوبہ قابل عمل نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیسے ناکام منصوبے کے آغاز پر بہت شور کیا گیا، کہا گیا کہ بجلی انتہائی سستی ہوجائے گی،,عدالتی معاون پہلی بار احساس ہوا کہ بلین کیا ہوتا ہے، اربوں روپے درخت کی پتوں کی طرح اڑا دیے گئے، اب اکٹھے کر رہے ہیں تو پتہ چل رہا بلین کیا ہوتا ہے۔

عدالتی معاون نے کہا کہ منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ واضح نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ 30 سال تک 10 ہزار میگاواٹ بجلی کا کہا گیا تھا، 3.8 ملین تو اس منصوبے پر لگ چکے ہیں، اس کا کون ذمہ دار ہے۔ کیا ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے یہ پیسے دینے ہیں۔

چیف جسٹس نے درختوں کی کٹائی کیس کی سماعت کے دوران ڈریپ کے چیئر مین کی تقرری نہ ہونے پر نوٹس لے لیا، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ڈریپ کا چیئرمین نہ لگنے سے بہت سے کام رکے ہوئے ہیں، حکومت بتائے ڈریپ کاچیئرمین کب لگایا جائے گا، پولی کلینک میں ادویات کی عدم دستیابی کا بھی نوٹس لے لیا، چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ پولی کلینک میں مریض لائنوں میں لگے رہتے ہیں، چیف جسٹس جب باری آتی ہے تو ادویات ختم ہو جاتی ہیں پولی کلینک کے پیچھے ارجنٹینا پارک ہے، ارجنٹینا پارک کو پولی کلینک کو توسیع میں شامل کریں، بتایا جائے کہ پولی کلینک کی توسیع کب شروع ہو گی۔