عمران خان کی خفیہ ملاقاتوں سے غلط تاثر پیدا ہورہا ہے:بلاول


کراچی(24نیوز)سانحہ کارسازکوگیارہ برس بیت ہوگئے،اٹھارہ اکتوبرکومحترمہ بے نظیربھٹو کے جلوس پرکراچی میں خودکش حملہ کیاگیا،حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن ایک سو اسی سے زائد جیالوں نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے جمہوریت کوبحال کرایا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر کارساز پہنچے جہاں انہوں نے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی،اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پی پی کے کارکنوں نے ہمیشہ جمہوریت اور ملک کے لیے قربانی دی ہے، ہم شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں، ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے، اداروں کو اپنے کردار میں کام کرنے، غریب کو حقوق دلوانے اور میڈیا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہمارا لمبا سفر ہے۔

نیب کی کارروائیوں سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس سے سیاسی انتقام کا تاثر پیدا ہوتا ہے، جب ملک کے وزیراعظم اور وزیر نیب کے بڑے لوگوں سے خفیہ ملاقاتیں کریں اور وزیراعظم سرعام پریس کانفرنس میں نیب کو دھمکی دیں اور اگلے دن کوئی تبدیلی ہو تو شک پیدا ہوگا،حکومت کے رویئے سے نظر آتا ہے یہ تحریک انصاف اب تحریک انتقام کی سیاست کی کوشش کررہے ہیں اور ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔

 ہم نے انتقامی سیاست کو پیچھے چھوڑا تھا، اپوزیشن لیڈر کو ضمنی الیکشن سے چند دن پہلے اس طرح گرفتار کیا جاتا ہے تو شک پیدا ہوتا ہے، جب سیاسی کیس بنائے جاتے ہیں اور قانونی طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا تو ہر سیاسی جماعت اور دیکھنے والا اس کو انتقامی سیاست کا نام دیتا ہے۔ معاشی سطح پر ملک کو بہت نقصان پہنچایا گیا، عوام ڈوب رہے ہیں، حکومت نے عوام کو ریلیف دینا تھا، جس طرح کے معاشی فیصلے ہورہے ہیں اس سے عوام کو تکلیف ہورہی ہے، سیاسی اور معاشی سطح پر حکومت ناکام نظر آرہی ہے۔

سانحہ کارساز کی تفتیش سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان ایسا ملک ہے جہاں دہشتگردی کے بہت واقعات ہوئے ہیں، سانحہ کارساز سے لے کر آج تک نہ صرف ہمارے بلکہ دیگر شہدا کو بھی انصاف نہیں ملا، الیکشن کے دوران بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے، میں نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں نہ صرف دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا بلکہ اس کے حقائق بھی عوام کے سامنے لانے کا کہا۔