وزیر خزانہ نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا



اسلام آباد(24نیوز)قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی نے انتخابی دھاندلی پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک پیش کردی ہے، تحریک میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے ٹی او آرز قائد ایوا ن اور اپوزیشن مل کر طے کریں گےاور کمیشن کی رپورٹ اتفاق رائے سے طے شدہ مدت میں پیش کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کرے گی جبکہ کمیٹی کیلئے پارلیمانی راہنماوں سے نام لیے جائیں گے۔ احسن اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کو مکمل با اختیار بنایا جائے کہ وہ جس کو چاہے طلب کرسکے۔کمیٹی کی شفافیت اور اختیارات کو یقینی بنایا جائے۔ شازیہ مری کمیٹی انتخابی دھاندلیوں ٹی او آرز مرتب کرے گی۔

کچھ کریں نہ کریں عوام کو سچ ضرور بتائیں گے:وزیر خزانہ

وزیر خزانہ اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک معاشی طور پر بہت کمزور ہوچکا ہے،غریب مشکل میں ہے،ہماری ترجیح معیشت کو بہتر کرنا ہے،گزشتہ حکومت کے بجٹ پر چلتے تو زیادہ نقصان ہوتا،بیرونی قرضے 95ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں،کچھ کریں نہ کریں عوام کو سچ ضرور بتائیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نئے بجٹ میں عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالیں گے،صاحب ثروت لوگوں پر بوجھ پڑے گا،سب سے پہلے فاٹا اور اسلام آباد صحت کارڈ جاری کیے جائینگے،کسانوں کو سستی یوریا کھاد دینے کا پروگرام بنایا ہے،پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا ہے،پٹرول لیوی کی مد میں ایک ارب روپے نہیں بڑھائیں گے۔

مزدوروں کیلئے10ہزار گھر بنا رہے ہیں ان کی تکمیل کے بعد مزید گھر بنائے جائینگے،ٹیکس استثنیٰ حاصل کرنیوالوں کو استثنیٰ نہیں ملے گا،ترقیاتی کام کیے جائینگے،لگژری آئٹمز پر بھی ٹیکس لگے گا،سی پیک کے کسی پروگرام میں کمی نہیں آئیگی،ایکسپورٹ انڈسٹری کی مدد کرینگے،ان کو بحال کرینگے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے یہ ملک قربانیوں اور شہیدوں کی قربانیوں سے وجود میں آیا لیکن یہ ملک اللہ تعالیٰ کی دین ہے،یہ ملک ایسا ملک بننے جا رہا جس پر پوری دنیا رشک کرے گی۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو مساوی نمائندگی دی جائے اور شفاف تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ بھی حزب اختلاف کو دی جائے۔اسی طرح کا مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر نے کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی شفافیت پر سنگین تحفظات ہیں اس لیے پارلیمانی کمیٹی میں برابر نمائندگی اور چیئرمین شپ اپوزیشن کے پاس ہونی چاہیے۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمانی کمیشن بااختیار ہوگا اور ہم کسی چیز کو پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے، شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا تاہم اپوزیشن کا حق ہے کہ وہ احتجاج کرے، ان کا نکتہ اعتراض رجسٹر ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اپنا موقف پیش کریں، اس کو سنا جائے گا، شفاف انتخابات جمہوریت کی ضرورت ہے، ہم نے اپوزیشن کے موقف پر سر تسلیم خم کیا ہے، ، جمہوری قدروں کی مضبوطی اصولی موقف ہے اور اختلافات کے باوجود آگے بڑھنا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک ہی مطالبہ سامنے آنے پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ جو بھی کمیٹی بناؤں گا رولز کے مطابق بناؤں گا۔

منی بجٹ آج پیش کیا جائے گا

وفاقی حکومت کی جانب سے آج کے اجلاس میں منی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا جس کی منظوری کابینہ سے حاصل کرلی گئی ہے۔

منی بجٹ میں سُپر ٹیکس سمیت 158 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 450 ارب روپے کی کمی کی جا رہی ہے ۔

وفاقی کابینہ نے منی بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی

ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں بجٹ خسارہ 6.6 فیصد کم کرکے پانچ فیصد تک لانے کی تجویز پر غور کیا گیا اور مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.1 فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ترقیاتی بجٹ میں 725 ارب روپے کمی اور نان فائلر کی بینکنگ سے لین دین پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت 608 ارب روپے تک اخراجات کم کرے گی، حکومتی اداروں، بڑی عمارتوں اور وزرا کے خرچوں کو کم کیا جائے گا۔