بلاول بھٹو زرداری اگر سیاست دان نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟


کراچی ( 24نیوز )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری  نے کہا ہے کہ انہیں وزیراعظم بننے کی خواہش نہیں، اپنی والدہ کے آئیڈیاز پر قائم ہوں اور ان کے لیے جان بھی دوں گا۔پرویز مشرف صرف میری والدہ کے قتل میں ہی ملزم نہیں۔ان پر غداری کا الزام بھی ہے۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں اور میرے والد فیصلے نہیں دیتے بلکہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی پالیسی بناتی ہے۔ہم اس پر تعمیل کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو ریاست کی رٹ کے حوالے سے کہا کہ ریاست کو چیلنج کرنے والوں اور اس کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے عسکری طور پر نمٹنا چاہیے لیکن دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وسیع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انصاف تول کردیا جاتا ہے،تول کرہی ملے گا:چیف جسٹس

بلاول بھٹو کا انٹرویو میں کہنا ہے کہ انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے تعلیم، نصاب، پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے،سب کو مساوی معاشی مواقع حاصل ہونے کا جامع پیکج صرف پیپلز پارٹی ہی دے سکتی ہے۔
چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے خاندانی سیاست کا راستہ خود اپنی مرضی سے منتخب نہیں کیا، میرے نانا اور والدہ کو قتل نہ کیا جاتا تو میرے نانا سیاست دان ہوتے اور والدہ دفتر خارجہ میں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کی لندن سے واپسی مشکوک ہوگئی
پیپلز پارٹی نے خاندانی سیاست کا راستہ خود اپنی مرضی سے منتخب نہیں کیا، میرے نانا اور والدہ کو قتل نہ کیا جاتا تو میرے نانا سیاست دان ہوتے اور میری والدہ دفتر خارجہ میں ہوتیں جب کہ میں اب بھی طالب علم ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی حد تک تمام سیاسی جماعتوں کا خاندانی سیاست پر انحصار ہے۔