اَن ٹائٹلڈ افراد سے آج ہی سکیورٹی واپس لےلی جائے،سپریم کورٹ


پشاور(24نیوز)   چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس منصور علی خان اور جسٹس عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے ہسپتالوں کے فضلہ کیس سمیت نجی میڈیکل کالج کی فیسوں اور دیگر کیسوں کی سماعت کی۔ سنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس ہیں لیکن یہاں تو بہت برا حال ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس پر تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی عدالت میں طلبی بنتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری پشاور میں ہسپتال فضلے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور، کراچی میں صورتحال بہتر بنا دی۔ آپ کی کیا پوزیشن ہے۔انہوں نے سیکرٹری ہیلتھ سے سوال کیا کہ ہسپتالوں سے کتنا فضلہ نکل رہا ہے ۔ گندگی کہاں ٹھکانے لگائی جا رہی ہے۔ پورے صوبے کا ڈیٹا چاہئے طریقہ کار کیا ہے۔ کس سے معاہدہ کیا ہے۔ سماعت کے بعد چیف جسٹس نے پرویز خٹک کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بلالیں۔ بے شک رات کے ڈیڑھ بج جائیں ہم ادھر ہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نریندرمودی سزا کا حقدار،دینا میں بھارت کو جمہوریہ خوف قرار دے دیا گیا 

 انہوں نے پینے کے پانی کے متعلق کہا کہ لوگوں کو گندا پانی پلایا جا رہا ہے۔مجھے آج شام تک تمام تفصیلات چاہئیں۔ سکیورٹی پروٹوکول سے متعلق آئی جی پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود پیش ہوئے ۔ ان سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ صوبے میں کتنے لوگوں کے پاس سکیورٹی موجود ہے۔ جس پر آئی جی نے جواب دیاکہ اس وقت صوبے میں 3 ہزار اہلکار ذاتی سکیورٹی پر مامور ہیں۔ چیف کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کو سکیورٹی دی جائے اور اَن ٹائٹلڈ افراد سے آج ہی سکیورٹی واپس لی جائے اور ہی مجھے اس کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:مراد علی شاہ نے وزیراعظم ہاؤس کو گھیرا ڈالنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دے دی 

 علاوہ ازیں ہسپتالوں کی نا گفتہ بہ حالت کا جائزہ لینے چیف جسٹس صاحب لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچ گئے۔ جہاں ایک طرف ہسپتال انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں تو دوسری جانب مریضوں اور ان کے تیمار داروں نے چیف صاحب کو گھیر لیا اور ہسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق شکایات کے ڈھیر لگا دیئے۔ چیف جسٹس نے سب کو سنا اورکہا کہ ہمیں تو یہاں کے متعلق سب اچھا کی رپورٹ ملی تھی لیکن یہاں بہتری کیلئے بہت کچھ کرنا ہو گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بہت سے فیصلے قانون کے مطابق نہیں ہورہے ۔تنقید ہوتی ہے ہم فیصلے جلد نہیں کررہے ۔عدالتوں میں انصاف کرنے والے بیٹھے ہیں۔ انصاف تول کردیاجاناچاہیےاورتول کرہی دیاجائے گا ۔میں اکیلا یہ نظام درست نہیں کرسکتا۔صدق دل سے معافی مانگنے پر معاف کردینا چاہئے۔