اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کے انعقاد میں تاخیر سے آگاہ کر دیا

اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کے انعقاد میں تاخیر سے آگاہ کر دیا


اسلام آباد (24نیوز) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے الیکشن کے بروقت نہ ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ موجودہ حالات میں الیکشن قانون میں بڑے سقم کی نشاندہی کر دی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن چار مئی کو جاری کرنے کا کہا گیا ہے لیکن سیکشن 22 کے مطابق حلقہ بندیوں کے بعد 120 دن چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف سے ملاقات میں چودھری نثار کی پی ٹی آئی سے رابطوں کی تردید 

خورشید شاہ نے کہا کہ سقم دور نہ کیا گیا تو الیکشن کا بروقت انعقاد ممکن نہیں ہو گا۔ حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹفکیشن 4 مئی کو جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔ سیکشن 22 واضح ہے کہ حلقہ بندیوں کے بعد ایک سو بیس دن چاہیے۔

دوسری طرف اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے ساٹھ دن کے اندر الیکشن ہونا ہے۔ اگر یکم جون کو اسمبلی مدت پوری کرتی ہے تو یکم اگست تک الیکشن ہونے ہیں۔ موجودہ حالات میں سیکشن 22 کی موجودگی میں بروقت الیکشن ممکن نہیں۔

پڑھنا نہ بھولیں: پیپلز پارٹی کے ندیم افضل نے ’’چن‘‘ چڑھا دیا 

سیکشن 22 کو دیکھا جائے تو چار ستمبر سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کمیشن سیکشن 22 اور دیگر شقوں میں تضاد کا فوری جائزہ لے۔ سیکشن 22 کو سیکشن 14 کے ساتھ ملا کر پڑھے۔

اگر یہ قانون سازی نہ کی گئی تو الیکشن کی قانونی حیثیت چیلنج ہو جائے گی۔ سب چاہتے ہیں الیکشن وقت پر ہوں جس کے لیے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں قانون سازی کرنا ہو گی۔