فیض آباد دھرنے میں فوج کا ہاتھ ہوا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے: آرمی چیف

فیض آباد دھرنے میں فوج کا ہاتھ ہوا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے: آرمی چیف


اسلام آباد (24 نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کردیا کہ فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں، فیض آباد دھرنے میں فوج کا ہاتھ ثابت ہو گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ 24 نیوز نے اجلاس کی اندرونی کہانی کا پتہ چلالیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں مختلف قومی اور بین الاقوامی امور پر ایک گھنٹے تک بریفنگ دی، جس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا جو تقریبا تین گھنٹے چلتا رہا، آرمی چیف نے ہر سوال کا تحمل کے ساتھ تسلی بخش جواب دیا۔

ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ فیض آباد دھرنے کے معاملات میں کوتاہی برتی گئی، کوتاہی برتنے کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی۔ فوج نے ثالثی کا کردار معاملے کو حل کرنے کیلئے ادا کیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ انتخابات اور سیاسی معاملات سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے۔ فوج میں احتساب کا کڑا نظام ہے، انہوں نے کہا کہ ادارے ان کا احتساب کرسکتے ہیں البتہ فوج کا احتساب وہ خود کریں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا، اگر اٹھ گیا تھا تو پارلیمینٹ اسے حل کرتی، دھرنا معاہدے میں ان کا نام آنا غلطی تھی، دھرنے کے پیچھے فوج کا ہاتھ نہیں تھا ایسا ثابت ہو جائے تو استعفیٰ دے دوں گا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر دھرنے کے شرکا میں ایک ایک ہزار روپیہ تقسیم کیا۔ فوج ریاست اور پارلیمینٹ کے تابع ہے، آرمی چیف نے صدارتی نظام کی بھی مخالفت کر دی اور کہا کہ اس سے خرابیاں پیدا ہوں گی۔