عوام کیلئے ایک اور بُری خبر ، 160 ارب روپے نیا ٹیکس لگانے کی تیاریاں



اسلام آباد( 24نیوز ) حکومت کا کہنا تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی جلدی نہیں لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی شائد کافی جلدی ہے. قرض لینے کے لیے عوام پر 160 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔ 

 وزیر اعظم اور وزیر خزانہ ایک طرف تو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نا ماننے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف تمام شرائط ماننے کا سلسلہ بھی جاری ہے.  بجلی، گیس پہلے ہی مہنگی اور روپیہ سستا کیا جا چکا ہےاورتواور شرح سود بھی بڑھا دی۔اب آئی ایم ایف ہی کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے 160 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کےلیے دوسرے منی بجٹ کی تیاری جاری ہے۔

آئی ایم ایف نے بجٹ خسارہ کم کرنے،حکومتی آمدنی اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، بات وفاقی حکومت کے ٹیکسوں تک ہی محدود نہیں,  عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے رواں مالی سال صوبائی حکومتوں کی آمدنی بڑھانے کے سلسلے میں بھی عملی اقدامات کا کہا جا رہا ہےجس کا مطلب ہے کہ مہنگائی صرف وفاقی حکومت ہی نہیں کرے گی بلکہ صوبائی حکومتیں بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کی مجوزہ شرائط کو جلد از جلد پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ جنوری کے وسط میں ہونے والی آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ کے ایجنڈے میں پاکستان کے قرض کی درخواست بھی شامل ہو جائے. پی ٹی آئی نے ستمبر میں پہلے منی بجٹ میں عوام پر 182 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا تھا۔

مزید اہم خبریں جانئے: https://www.youtube.com/channel/UCcmpeVbSSQlZRvHfdC-CRwg/videos

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔