انتظار قتل کیس: نئی جے آئی ٹی سے والد کو انصاف کی امید دلا دی گئی


کراچی (24نیوز) نوجوان انتظار قتل کیس پربننے والی نئی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس ہوا، مقتول کے والد نے خدشات اورتحفظات کے باوجود تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کر دیا۔

 کراچی کے علاقہ ڈیفنس میں 13 جنوری کو سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے انتظار احمد کی جان گئی، انوسٹی گیشن پولیس نے اینٹی کار لفٹنگ سیل کے 8 اہلکاروں کو واردات میں ملوث ہونے پر گرفتار بھی کیا، ابتدائی تفتیش کے دوران معاملہ کی گھتی نہ سلجھی تو ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے جے آئی ٹی بنا ڈالی لیکن جے آئی ٹی میں شامل افسران کے تحفظات پر جے آئی ٹی تحلیل ہوگئی۔ انتظار احمد قتل کیس کے وکیل آصف خدائی کا کہنا ہے کہ آج کی کارروائی ان کیمرا ہے اسے پبلک کرتے ہیں تو انتظار کیس کو نقصان پہنچے گا۔

12 فروری کو وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر فوری تشکیل دی جانے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے کام شروع کر ہی دیا، پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے انتظار احمد کے والد کہتے ہیں انہیں امید ہے کہ اب انصاف مل جائے گا، تمام خدشات جے آئی ٹی کے آگے رکھ دیے ہیں.

بیٹے کو انصاف دلانے کے لیےاس کے والد کی جدوجہد جاری رہی۔ بالآخر 12 فروری کو وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ۔ اشتیاق احمد کو اب امید ہے کہ اصل ملزمان قانون سے نہیں بچ سکیں گے۔