نقیب اللہ محسود دہشتگرد تھا یا بے گناہ، تحریری شواہد پیش کردیئے گئے


کراچی(24نیوز)دو ہفتے قبل کراچی کے علاقہ شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مبینہ ہلاک دہشت گرد نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود دہشتگرد تھا یا بے گناہ، انکوائری کمیٹی کے سامنے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ہلاک دہشت گرد کے خلاف تمام تر تحریری شواہد پیش کردیئے،نسیم اللہ کی جانب سے اسکا کوئی بھی رشتے دار یا واقف کار کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوا۔

تفصیلات کے مطابق انچارج سی ٹی ڈی کی سربراہی میں 3 رکنی انکوائری کمیٹی کے سامنےایس ایس پی ملیر راو، سابق ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاون امان اللہ مروت، اور سول سوسائٹی ارکان جبران ناصر، ہاشم بھی پیش ہوئے۔کمیٹی نے پولیس افسران سے پوچھا نقیب اللہ پر کیا الزامات تھے اور کب سے دہشت گردی کررہا تھا۔ گرفتار کمانڈر قاری احسان کی جی ائی ٹی بھی پولیس کی جانب سے کمیٹی کو پیش کی گئی۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نےاپنا موقف اختیار کیا کہ نسیم اللہ عرف نقیب اللہ کراچی میں 2014 سے کلعدم تنطیم کے ساتھ رابطے میں تھا۔2014 کے ایک مقابلے میں بھی سچل تھانے سے مقدمہ نمبر 281 منگھو پیر پولیس اہلکاروں کے قتل کے ایک مقدمے میں بھی مفرور تھا۔راؤ انوار کی جانب سے نقیب اللہ کے خلاف دہشت گردی اور دہشت گردوں سے تعلقات کے ثبوت پیش کیئے گئے۔ دوسری جانب بلانے پر بھی نقیب اللہ کا کوئی بھی رشتے دار یا واقف کار کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوا۔ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کمیٹی کو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد روانہ ہوگئے۔