شیخ رشید کے بعد پی ٹی آئی رہنما بھی استعفوں پر سنجیدہ ہو گئے


اسلام آباد (24 نیوز) شیخ رشید کے بعد عمران خان اور ان کی جماعت بھی استعفوں پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ 23 جنوری کو سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں استعفوں کا معاملہ زیر غور آئے گا۔

ارکان اسمبلی کے استعفوں اور اسمبلیاں ٹوٹنے کے خدشے نے سیاسی نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ حکومت اور اسمبلیوں پر دباؤ بڑھ گیا۔ اکتیس جنوری سے قبل استعفوں کی صورت میں ضمنی الیکشن ہوں گے۔ اسمبلیاں ٹوٹ جانے پر سینیٹ انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں۔

تحریک انصاف خیبر پختونخوا اسمبلی بھی توڑ سکتی ہے، جس سے سینیٹ انتخابات کا الیکٹورل کالج نامکمل ہو جائے گا، پھر ملک میں عام انتخابات کے بعد ہی سینیٹ انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے گا۔

ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے سندھ میں اسمبلی توڑنے کی اپوزیشن اتحاد کو یقین دہانی نہیں کرائی۔ وفاق میں تحریک انصاف کے استعفوں کی صورت میں ن لیگ اور جے یو آئی ف خیبرپختونخواہ اسمبلی سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف کو امتحان میں ڈال سکتے ہے۔

28 جنوری سے قبل قومی اور پنجاب اسمبلی سے استعفوں کی صورت میں ضمنی انتخاب آئینی تقاضا ہوگا۔ کے پی ، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی 31 جنوری سے پہلے خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوگا۔