زینب سمیت 11بچیوں کے زیادتی و قتل کے واقعات میں کون ملوث ہے؟

زینب سمیت 11بچیوں کے زیادتی و قتل کے واقعات میں کون ملوث ہے؟


قصور (24 نیوز) دن گزرتے جارہے ہیں مگرزینب قتل کیس کی گتھیاں سُلجھنے میں نہیں آرہیں۔ صرف زینب ہی نہیں یہ گیارہ معصوم بچیوں سے زیادتی اوران کے قتل کا معاملہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ معصوم بچیوں کے قتل میں ڈارک ویب کے پیچھے چھُپے مافیا اور بڑے پیمانے پرمالی مفاد رکھنے والوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

سانحہ قصور کے ڈانڈے قصور تک محدود ہیں یا اس میں عالمی سطح پر کام کرنے والے ڈارک ویب کا نیٹ ورک بھی ملوث ہے۔ یہ سوال اس لیے اُٹھ رہا ہے کہ ہزاروں لوگوں کے ڈی این اے ہونے کے باوجود مُلزم کا سراغ تا حال نہیں مل رہا اور اُنگلیاں با اثر افراد کی طرف اُٹھ رہی ہیں۔

اہم خبر: جے آئی ٹی کو زینب قتل کیس میں گرفتار مبینہ ملزم کی ڈی این اے رپورٹ نہ ملی

اس کو تقویت اس بات سے مل رہی ہے کہ اس پہلے قصور ہی سے 300بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی فوٹیجز عالمی پورن مارکیٹ کی خفیہ سائٹوں پر بیچ کر بھاری رقم کمانے کا انکشاف ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شہر اقتدار میں باپ نے بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی دو پولیس اہلکاروں کی آڈیو میں بھی اس میں ارکان اسمبلی، مقامی سیاسی رہنماؤں اور اعلیٰ پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی بات کی گئی۔

متعلقہ خبر: زینب کیس، مبینہ ملزم گرفتار، زیادتی و قتل کا اعتراف

سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر قصور میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران وہاں کے ارکان اسمبلی، ناظم اور سیاسی رہنماؤں کو کیوں شک کے دائرے سے باہر رکھا جا رہا ہے؟

ان کے ڈی این اے کیو ں نہیں کرائے جا رہے ہیں اور اگر کرائے جا رہے ہیں تو انھیں خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے۔ کیا اس سے کسی با اثر ظالم کو بچانا مقصود ہے؟