این اے 130،کانٹے دار مقابلہ،شہباز شریف کو مشکلات کا سامنا

این اے 130،کانٹے دار مقابلہ،شہباز شریف کو مشکلات کا سامنا


لاہور( 24نیوز )لاہور کے بڑے انتخابی دنگل میں سے ایک بڑا جوڑ این اے 132 میں بھی پڑے گا، اس حلقے سے شہباز شریف کے مقابل تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے تگڑے سیاسی پہلوان اکھاڑے میں اترے ہوئے ہیں جو روایتی پہلوان کو چت کرکے اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔
یہ نیاحلقہ این اے132 ہے، پرانے حلقے 130کے پوش علاقوں، دیہات پر مشتمل ہے،اس حلقے میں میواتی، مغل، اعوان ، گجربرادری کا بڑا ووٹ بینک ہے۔
2013 کے انتخابات میں شہبازشریف یہاں سے کامیاب ہوئے تھے، پاکستان کے دل لاہور میں اس بار یوں تو کانٹے کا مقابلہ ن لیگ اور تحریک انصاف میں ہو گا لیکن این اے 132 میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن بھی خاصی مضبوط ہے۔

   یہ خبر بھی پڑھیں۔۔۔ بلاول نے ایک بار پھر عمران خان کو نشانے پر رکھ لیا
ن لیگ کے صدر شہبازشریف کے مقابلے میں تحریک انصاف کے چودھری منشا سندھو ہیں تو پیپلز پارٹی نے سابق وفاقی وزیر ثمینہ خالد گھرکی کومیدان میں اتارا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ معروف گلوکار جواد احمد بھی یہاں سے اپنی سیاسی قسمت آزما رہے ہیں جبکہ شہبازشریف اس حلقے سے پنجاب اسمبلی کی دونوں نشستوں پربھی امیدوار ہیں ۔