بچوں کوآپ کی توجہ چاہیےورنہ!

مناظرعلی

بچوں کوآپ کی توجہ چاہیےورنہ!


لاہورکے قدرے رش والے علاقے سے گزرتے ہوئے ایک سنگل سڑک پرسپیڈبریکرنےمیری گاڑی کی رفتارآہستہ کی تو کانوں میں بچوں کے لڑنے کی آوازپڑی،وہ گالیاں جومیں نے آج تک نہیں سنیں،بچے ایک دوسرے کودے رہے تھے،تب میرے ذہن میں دوخیال آئے،ایک تویہ کہ جوبچے آج ایسی گالیاں دےرہے ہیں ،بڑے ہوکریہ کیاکچھ نہیں کریں گے،دوسرامجھے دوہزارپانچ کے وہ بچے یادآئے جن کے والدمحنت مزدوری کرنے کراچی گئے اورپھرکسی وجہ سے انہیں واپس گاؤں آناپڑگیا،ان بچوں کی تعلیم وتربیت شہرقائد کی تھی،دوبڑی بیٹیاں اوران میں ایک چھوٹابچہ تھا،تینوں بچوں کوپنجابی زبان نہیں آتی تھی اوروہ اردو اورانگریزی میں بات کرتے تھے، گاؤں میں یہ بچے دوسروں سے بہت مختلف تھے،کراچی والے بچوں کے والدین میرے سکول میں انہیں داخل کرانے لے آئے،کسی پسماندہ گاؤں کے ایک سکول کاڈسپلن اوراساتذہ کے اردوبولنے کی وجہ سے ان بچوں نے والدین کویہی داخل ہونے کاکہہ دیا،ایک دن ان میں سے بڑی بچی جو اُس وقت پانچویں کلاس کی طالبہ تھی میرے آفس میں داخل ہوئی اورکہاکہ "سرکچھ بچے ہماری طرف غصے سے دیکھ رہے ہیں اورکچھ ایسی باتیں کررہے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہی،میں نے متعلقہ بچوں کوبلایاتوپوچھ گچھ کے بعد پتہ چلاکہ وہ بچے پنجابی میں گالیاں دے رہے تھے جن کی ان بچوں کوسمجھ نہیں آرہی تھی،ایک یہ وجہ تھی اوردوسری یہ کہ اِن کراچی والے بچوں نے کبھی گالیاں سنیں،نہ سیکھیں۔۔اورایک آج کے بچے ہیں،وہ خواہ شہرکے ہوں یاپھرگاؤں کے،ان میں سے اکثر ایسی ایسی اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں کہ اپنے بچپن میں کبھی ایسی باتوں کاتصورتودرکنار،علم ہی نہیں تھا۔

بچپن گاؤں کی سادہ زندگی میں گزرا،صبح کے وقت ایک کلو میٹر پیدل چل کرمسجدمیں قرآن پاک سیکھنے جاناجہاں ایک طرف برآمدےمیں بچیوں کی قطارہوتی تھی اوردوسری طرف بچے بیٹھتے تھے،میاں غلام رسول صاحب کے پاس ایک لمبی بانس کی چھڑی ہوتی تھی جوقطارکے آخری بچے تک پہنچتی تھی،شرارت کی صورت میں میاں صاحب وہی سے بیٹھ کرچھڑی ہلکی سی مارتے تودوبارہ جرات نہ ہوتی،پھرمسجدسے واپس آتے توگھرمیں والدہ کے ہاتھ کاپراٹھا،اچار،مربہ، مکھن اورلسی سے ناشتہ کرتے اورپھراپنابستہ پکڑکرسکول چلے جاتے۔نہ موبائل،نہ انٹرنیٹ ،نہ کیبل،نہ سی ڈی، گاؤں کی زندگی میں تواُس دورمیں بجلی بھی نہیں تھی،مٹی کے تیل پرچلنے والی لالٹین یادیئےجلاکررات کے کام کیے جاتے تھے اورعشاء کے بعدلوگ سوجاتے تھے،انتہائی اہم امور تبھی ڈسکس ہوتے تھے جب سب لوگ سوجائیں تاکہ بات رازمیں رہے،بات پرانے دورے کے بچوں اورآج کے بچوں کی ہورہی تھی جس میں ہم بڑھتے بڑھتے گاؤں کی سادہ طرززندگی میں چلے گئے ،ہم جب پرانے وقتوں اورآج کے بچوں کاتقابلی جائزہ لیتے ہیں توہمیں ایک چیزبچوں کے لیے ہردورمیں ضروری محسوس ہوتی ہے اوروہ ہے ان کی تعلیم کیساتھ ساتھ تربیت،،پرانے وقت میں گھرکے بڑے اس بات کاخاص خیال رکھتے تھے حتی کہ ایسے لوگ بھی تربیت کے معاملے میں بہت زیادہ حساس تھے جنہوں نے خود کبھی سکول کامنہ بھی نہ دیکھاہو،وہ بچوں کوچھوٹے بڑےکی تمیز سکھاتے،محفل کے آداب بتاتے اوران پرعمل کراتےتھے،اُس دورمیں بچے چچا،تایااوران کی عمرکے افرادکاادب بھی اپنے سگے والدکی طرح کرتے،خالہ،پھوپھی اوران کی عمرکی خواتین کی عزت بھی اپنی والدہ کی طرح کرتے تھے ،اسی طرح بہن اوربھائیوں کی عمرکے لوگوں کی عزت اورشرم وحیا کاخیال رکھاجاتا اوربرٰ ائی نام کی کوئی چیزکبھی سننے میں نہ ملتی، حتی کہ جوان لڑکیاں اورلڑکے اکٹھے کھیلتے، کچے آم ،امرود،جامن اوربیراتارکرکھاتےاورایک دوسرے کااحساس کرتے تھے اورایک آج کے بچے ہیں جنہیں سوشل میڈیاسے فرصت نہیں۔

اب زمانہ جدید ہوگیا،سائنسی کرشمے، موبائل فون اورتیزترین انٹرنیٹ نے دنیاکوآپ کے ہاتھ میں رکھ دیاہے،آپ یہاں بیٹھ کرامریکی صدرکی بات پراپنی مخالفت کااظہارکرسکتے ہیں،دنیاجہان کاعلم کتابوں سے نکل کرآپ کی انگلیوں کے اشارے پرسامنے آجاتاہے مگرپاس بیٹھے والدین کی خبرنہیں۔آج کابچہ گلوبل ویلج کی خاک چھانتارہتاہے مگراپنے گرداڑتی مسائل کی گرداسے نظرنہیں آتی،وہ پاس بیٹھی ماں سے پیارکااظہارنہیں کرتامگرفیس بک کے فیک آئی ڈی پرآن لائن دوشیزہ کے پیچھےعرفان پٹھان،مٹھو،اللہ دتہ اورنجانے کتنوں کوروزانہ آئی لویوکہتاہے۔

نئی نسل بلاشبہ جدیددورسے آشناہے مگرجس مقصد کیلئے والدین اولاد کی خواہش کرتے ہیں اوراس نعمت کیلئے خداسے گڑگڑاکردعائیں کرتے ہیں،کیاموجودہ نسل اپنے والدین کی وہ خواہشات پوری کرنے کے قابل ہے؟آج کے یہ بچے جن میں سے اکثرکو بڑوں سے بات کی تمیزنہیں،جن کے اندراحساس کی کمی ہے،کیاآگے چل کریہ دوسروں کاخیال تودرکناراپناہی دھیان رکھنے کے قابل رہیں گے؟۔کیاہم پھرپچھلے زمانے میں چلے جائیں؟ جہاں سہولیات نہ تھیں مگراخلاقیات تو تھیں،چھوٹے بڑے کی تمیزاوروہ سب جوآج کے والدین بھی اپنی اولادسے امیدکرتے ہیں مگرہم ہزار بارکوشش کے باوجودبھی زمانہ ماضی میں نہیں جاسکتے،ہم حال میں ہیں اوراسی میں رہ کرمستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں،جوچیلنجزدرپیش ہیں ابھی ہم اس میں مزیداضافہ دیکھیں گےتوپھرہم کس طرح اپنے بچوں کوآنے والے وقت کیلئے تیارکریں کہ وہ جدت کے زمانے میں رہ کربھی اخلاقیات کادامن پکڑ کررکھیں،اپنی ذمہ داریاں پوری کریں،فرمانبردار،اخلاقی،مذہبی،معاشی اورمعاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے کے اہل ہوسکیں۔

اس کے لیے صرف ایک ہی کام ہے اوروہ تین لوگ کرسکتے ہیں،والدین،اساتذہ اورمعاشرے کےعمرمیں بڑے افراد،،یہ تینوں طرح کے لوگ صرف توجہ دیناشروع کردیں،بچوں کو دنیاوی علوم کیساتھ تربیت اورقرآن پاک کی تعلیم ترجمہ کیساتھ دلائیں اوران کے ذہنوں میں پیداہونے والے سوالوں کے جواب دیں،بچوں کوخود وقت دیں،ان کی چھوٹی چھوٹی بظاہرمعمولی باتیں بھی سنیں اورانہیں مطمئن کریں،جہاں معاشرے کے یہ تین لوگ(والدین،اساتذہ،بزرگ) توجہ دینے کاایک کام نہیں کرتے پھرنئی نسل ان کی اس غلطی کی وجہ سے بے شمارمسائل کاشکارہوجاتی ہے لہذانئی نسل کوراہ راست پررکھناہے توبچوں پرصرف توجہ دیناشروع کردیں،انہیں سب کچھ مل جائے گااوراگرایسا نہ ہوپایاتوپھرنتائج ایسے بھی نکل سکتے ہیں کہ جن کاوالدین نے کبھی تصوربھی نہیں کیاہوگا۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔