ہندو خاتون کا بھارتی ٹیلی کام کمپنی کے مسلمان ملازم کی خدمات لینے سے انکار

ہندو خاتون کا بھارتی ٹیلی کام کمپنی کے مسلمان ملازم کی خدمات لینے سے انکار


دہلی(24نیوز) انڈیا میں ایک ہندو خاتون نے بھارتی ٹیلی کام کمپنی کے مسلمان ملازم کی خدمات استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

24 نیوز ذرائع کے مطابق پوجا سنگھ نے اپنے ٹوئٹرہینڈل پر لکھا کہ ڈیر شعیب آپ مسلمان ہیں اور مجھے آپ کے کام کرنے کے طریقے پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس لیے میری شکایت کے ازالے کے لیے آپ کسی ہندو ملازم کو بھیجیں۔اس کے بعد بھارتی ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے ایک ہندو ملازم نے پوجا سنگھ سے ٹوئٹر پر ہی رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔اس کے بعد جب کمپنی کے ایک ہندو ملازم نے شکایت کے ازالے کی ذمہ داری سنبھالی تو سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔

ٹوئٹر پر صارفین پوجا سنگھ اور بھارتی ٹیلی کام کمپنی دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔پوجا سنگھ کی ٹویٹ اور بھارتی ٹیلی کام کمپنی کے رویے پر ملک کی کئی سرکردہ شخصیات نے رد عمل ظاہر کیا ہے۔کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ وہ بھارتی ٹیلی کام کمپنی کو اب ایک بھی پیسہ نہیں دیں گے اور کسی دوسری کمپنی کی خدمات حاصل کریں گے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:موبائل فون کمپنیوں نے 100 کے کارڈ پر 100 کا لوڈ دینے کا اعلان کر دیا 

 مصنف اور کالم نگار چیتن بھگت نے طنزیہ کہا کہ ڈیر سک (بیمار) میڈم یہ کمپنی کی کسٹمر سروس ہے۔ ہندو کے لیے 1 دبائیے، شمالی ہندوستانی کے لیے 2 دبائیے۔ مبارک ہو، آپ ملک کو تقسیم کرنے اور ہماری سیاست کو انھیں باتوں میں الجھائے رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔اس تنقید کے بعد کمپنی نے ایک بیان جاری کرکےکہا کہ ڈیر پوجا بھارتی ٹیلی کام مذہب یا ذات کی بنیاد پر بالکل تفریق نہیں کرتا اور ہم آپ سے بھی درخواست کریں گے کہ آپ بھی نہ کریں۔