آہ!!! محمد مرسی

محمد سعید رفیق

آہ!!! محمد مرسی


جب قاہرہ کے ایک تاریک کمرہ عدالت میں دنیا کی سب سے مظلوم قوم فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کیخلاف سماعت جاری تھی تو اسی دوران پنجرہ نما قید خانے میں قید روشن چہرے اور منوردل والے محمد مرسی اد گرد پھیلی گھٹن ،حبس اور تعفن کی تب نہ لاکر اپنے رب کے حضورجاپہنچے، یوں مصر کے پہلے جمہوری سربراہ پر قید ناروا میں روا رکھی جانے والی تعذیب، تکذیب اورصعوبتوں کے دور کا دردناک اختتام ہوا۔

ایشیا اور افریقہ کے سنگم پر واقعہ، فلسطین سے جڑی سرزمین مصر کی پہچان بلاشبہ دریائے نیل دیومالائی حسن اور فرعون ہیں، مگر دورجدید میں اسے حسنی مبارک، عرب اسرائیل جنگ ،قاہرہ اور سکندریہ کے نائٹ کلبس، عرب فلم انڈسٹری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ البتہ تاریخ اور سیاست کے طالبعلموں کیلئے مصر کا ایک حوالہ حسن البنا ، سید قطب اور اخوان المسلمین بھی ہیں، 67سالہ محمد مرسی اس میں تازہ اضافہ گردانا جائیگا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حماس کی حمایت کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران محمد مرسی نے واشگاف انداز میں حکام کو چیلنج کیا کہ ان کے سینے میں بہت سے راز دفن ہیں جنھیں وہ مناسب وقت پر فاش کرینگے، جس کے کچھ ہی دیر بعد سابق صدر زمین پر گرے اور چل بسے۔ لندن میں موجود اخوان المسلمین کی قیادت نے مرسی کی ہلاکت کو مصری حکومت کی طے شدہ کارروائی قراردیاہے۔ اخوانی قیادت کے مطابق سابق صدر کوقید خانے میں نارواسلوک کا نشانہ بنایا گیا،جبکہ ان کی ملاقاتوں پر بھی ایک سال سے پابندی تھی، اخوان لیڈر محمد صدان کا کہنا ہے کہ صدر مرسی عدالت سے دوائیاں فراہم نہ کرنے کی بھی شکایت کرچکے تھے، ان حالات میں ان کی موت کو طے شدہ قتل ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

سابق صدر مرسی کی پراسرار ہلاکت کا واقعہ،اخوان المسلمین کی قیادت کےساتھ ناروا سلو ک کی کوئی پہلی مثال نہیں ہے،1949 میں مرشد عام سید حسن البنا کو سرعام گولیاں مار کرشہید کرنے کا واقعہ ، عبدالقادرعودہ، شیخ محمد فرغلی سمیت 6 رہنما کی پھانسی، کارکنوں کیلئے قید وابتلا اور کوڑے، 70 کی دہائی میں مرشدعام سید قطب کی شہادت اور اس جیسے بیسیوں واقعات میں اخوانیوں کیلئے تعذیب و تکذیب کے ہھتکنڈے جدید مصر میں عام رہے ہیں ۔

عرب سپرنگ کی کامیابی کے نتیجے میں جب 24سالہ مبارکی اقتدار زمین بوس ہوا تو مصر کی پہلی حقیقی جمہوری منتخب حکومت کا قیام مغرب کو برداشت ہوا نہ غاصب اسرائیل کو ۔ ریشہ دوانیوں ، سازشوں اورسیاسی چالوں کے نتیجے میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے محمدمرسی کو ایک سال کے اندر اندر چلتا کردیا گیا۔ جمہوری اقتدار سے بے دخل کرنے والوں نے جھوٹ، دروغ اور فلسطینیوں کی بے جا حمایت کا الزام لگا کر مرد حر کو پس دیوار زنداں کرڈالا، حالانکہ محمد مرسی جدید مصر کے وہ حکمران رہے جن کے انداز حکمرانی کو بلاشبہ مسلم نشاط ثانیہ سے جوڑا جاسکتا ہے،جب اقتدار کو خداخوفی کا ذریعہ اور اللہ اور اس کے بندوں کی امانت سمجھا جاتا تھا۔

ایک سالہ مختصر عرصہ اقتدار میں مرسی دنیا کے سب سے کم تنخواہ پانے والے حکمران قرار پائےجبکہ ملنے والی تنخواہ بھی ان کے سرکاری اکاؤنٹ سے نہیں نکلوائی گئی، صدر بنتے ہی شاہانہ صدارتی محل میں منتقل ہونے کی بجائے انہوں نے مختصر سافلیٹ کرایہ پر لیکر رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دی، مرسی پرتعیش طرز زندگی سے دوراللہ کے مقربوں میں شمار ہونے والے والے زندہ وبیدار شخص تھے،جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہوں نے پوری زندگی فجر کی نمازقضا نہیں کی ، عہدہ صدر سنبھالنے کے بعد بھی وہ قریبی مسجد میں باجماعت نماز فجر ادا کرتے رہے۔

بہترین طرز حکمرانی اور ذمہ دارانہ کردار اداکرنے کی زبردست خواہش کے باوجود اخوان کی منتخب حکومت کو دیوار سے لگایاگیا اور امریکی پشت پناہی سے فوجی بغاوت کرنے والے جنرل فتح السیسی اقتدارپر قابض ہوگئے۔ قریبی اور قابل اعتماد عرب اتحادی ملک میں جمہوریت کا جنازہ اٹھتے دیکھ کر امریکہ اور مغرب نے یک گونہ خاموشی اختیار کئے رکھی جبکہ اخوان کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری پر بھی انسانی حقوق کے عالمی اداے خاموش رہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ 2013 میں ہونے والا لاکھوں لوگوں کا مرسی حکومت کیخلاف خودساختہ احتجاج برطرفی کی اصل وجہ نہیں تھا، بلکہ فلسطین پراسرائیلی قبضے کیخلاف دوٹوک موقف اور ببانگ دہل مصر کی پالیسی میں تبدیلی کے اعلان نے ان کے اقتدا کا سورج وقت سے پہلے غروب کردیا، کیسے ممکن تھا کہ اسرائیلی سرحد سے متصل مص میں فلسطینی کاز سے اخوان المسلمین کی جذباتی وابستگی برداشت کی جاتی؟؟

آزادی فلسطین کیلئے

مسئلہ فلسطین پر بین السطور عرب دنیا کے بیک فٹ پر آنے اور غیرعلانیہ طورپرخطے میں اسرائیلی بالادستی تسلیم کرنے کی راہ میں اخوان المسلمین کی حکومت کو اہم رکاوٹ سمجھ کر ہی ہٹا گیا اوراب اس راہ کاآخری پتھر سمجھے جانے والے مرسی سے بھی جان چھڑا لی گئ ہے۔ بات بڑی واضح ہے کہ آئندہ عرب دنیا میں فلسطین کاز کی دائمی محبت میں گرفتار حکومت بنے گی نا کوئی شخص اور تنظیم رہیگی۔ ایسے میں مجھے شدت سےمصر کے آمر صدر جنرل فتح کا گزشتہ دنوں ہونے والا دورہ امریکہ یاد آرہا ہے، جب ٹرمپ اور السیسی کے درمیان اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دیکر عالمی پابندیاں لگانے سے متعقل تجاویز کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں۔ یعنی کہ عرب ورلڈ میں اخوان المسلمون کو اپنی فلسطین پالیسی پرقائم رہنے، اسرائیلی ہٹ دھرمی قبول نہ کرنے کی بڑی اور سخت سزاجلد ملنے والی ہے۔۔