قومی اسمبلی:کس میں ہے کتنا دم؟

قومی اسمبلی:کس میں ہے کتنا دم؟


25 جولائی 2018 کو  وجود میں آنیوالی قومی اسمبلی رینگ رینگ کر چل رہی ہے۔ ہر سیشن میں خدشہ رہتا ہے کہ آج گئی کہ کل۔ اب تو یہ خدشہ خوف میں بدلتا جارہا ہے کیونکہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی ارکان بھی پرانی روایت پر اتر آئے ہیں۔ اپوزیشن ارکان قائد ایوان کو بولنے نہیں دیتے اور حکومتی ارکان قائد حزب اختلاف سے بدلا لینے پر تلے ہیں۔ اب تو دونوں طرف سے صف بندی کی جارہی ہے کہ ڈٹ کر مقابلہ ہوگا۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ کسی مجرم کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا، چاہے وہ سابق صدر ہے یا کوئی اور۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ کسی صورت بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے۔ دعوے اپنی جگہ لیکن کس میں ہے کتنا دم، کون کیا کرسکتا ہے؟ اس کا بھی ذرا جائزہ ہوجائے۔

یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے، اس کی بڑی وجہ پاکستان کی دگرگوں معاشی صورتحال ہے اور عام خیال یہی ہے کہ مہنگائی مزید بڑھے گی، روزگار مزید کم ہوگا، لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جائے گا۔ ایک کٹھن صورتحال ہے جو وزیراعظم عمران خان کو سامنے نظر آرہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ایک کمزور ڈور پر قائم ہے۔ قومی اسمبلی میں نحیف اور پنجاب میں اس سے بھی کمزور۔ پی ٹی آئی کی حکومت اتحادی جماعتوں کی ایک معمولی حمایت کے سہارے کھڑی ہے۔ چاہے وفاق ہو یا پنجاب، قومی اسمبلی اور پنجاب میں اگر گیارہ گیارہ اراکین بھی ساتھ چھوڑ دیں تو عمران خان کی وزارت عظمیٰ ختم ہوسکتی ہے جو ایک کچے دھاگے سے بندھی ہے۔ عمران خان کی وفاق میں حکومت صرف 11 نشستوں سے تنی ہوئی ہے اور پنجاب میں 11 کھلاڑیوں کا بہت اہم کردار ہے۔ عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ٹیم میں جو ہوتے ہیں، وہ 11 کھلاڑی ہیں جو وفاق اور پنجاب میں ان کی حکومت کو سہارا دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پاس 172 کی سادہ اکثریت کے بجائے 182 نشستیں ہیں۔ یعنی عمران خان کی حکومت 11 نشستوں پر کھڑی ہے۔ اس میں ایم کیو ایم کی 7 اور مسلم لیگ ق کی 5 نشستوں کا کردار ہے۔ گویا کہ مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم گئیں، تو عمران خان کی حکومت گئی۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم ایم اے کی 156 نشستیں ہیں۔ علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت چار آزاد ارکان کی حمایت کے بعد اپوزیشن حکومت کیلئے مصیبت بن سکتی ہے۔

342 اراکین کی قومی اسمبلی میں 272 جنرل نشستیں 60 خواتین اور اقلیتوں کی 10 نشستیں ہیں۔ وفاق میں حکومت بنانے کےلیے 172 اراکین اسمبلی کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو 182 ارکان کا اعتماد حاصل ہے، جس میں تحریک انصاف کی 156 نشستیں ہیں جبکہ 26 سیٹیں اس کی اتحادی جماعتوں کی ہیں۔ ان میں ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی، جی ڈی اے، بی این پی مینگل، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی 5 نشستیں حکومت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں۔ بالکل اسی طرح بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 10 نشستیں ساتھ چھوڑ دیں تو پی ٹی آئی کی حکومت لڑکھڑا سکتی ہے۔ ان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی 4، بی این پی مینگل کی 5 اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک نشست شامل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاق کی طرح پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت 11 نشستوں کے سہارے کھڑی ہے۔ پنجاب میں حکومت بنانے کےلیے 185 ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہے۔ پنجاب حکومت کو 196 ارکان کا اعتماد حاصل ہے۔ اگر مسلم لیگ ق کے 10 اور مولانا احمد لدھیانوی کی راہ حق پارٹی کا ایک رکن پنجاب اسمبلی سے الگ ہوجائے تو پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت ڈگمگا سکتی ہے۔

اس وقت حکومت کےلیے سب سے بڑا مسئلہ بجٹ پاس کروانے کا ہے۔ سردار اختر مینگل واضح اعلان کرچکے ہیں کہ ہم بجٹ کےلیے حکومت کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عید کے بعد بلوچستان حکومت گرادیں گے، حکومت نے ہمارے مطالبات نہیں مانے، بجٹ کےلیے ووٹ نہیں دیں گے۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملاقاتوں پر ملاقاتیں کررہے ہیں۔ عید سے پہلے کیے گئے اعلان پر عمل کا وقت ہے لیکن ابھی تک اے پی سی نہیں ہوسکی۔ دونوں پارٹیاں نہیں چاہتیں کہ پارلیمان گرے لیکن ان دونوں کےلیے پل کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمان کی خواہش ہے کہ حکومت کل کی جاتی آج جائے، ہمارا اسلام آباد آنے کا فل پروگرام ہے۔ ملک میں جو ایشوز بن رہے وہ اپوزیشن کے اتنے بنائے ہوئے نہیں جتنے خود حکومت نے بنائے ہیں۔ شاید ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی باتوں کو اتنی اہمیت نہ ملے لیکن اس کے علاوہ کچھ ایسے ایشوز بن رہے ہیں جن کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا۔ ان میں مہنگائی سرفہرست ہے، عوام کے اندر ایک لاوا پک رہا ہے جسے صرف چنگاری دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان کی صورتحال ہے، جو تمام ایشوز سے زیادہ خطرناک ہے۔ اسی طرح عدلیہ کے خلاف حکومت کی محاذ آرائی ہے، وکلا کھل کر اپنے ججوں کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں، جبکہ انہوں نے تو احتجاج بھی شروع کردیا ہے۔ ان کے احتجاج میں لگنے والے نعرے زیادہ خطرناک ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم اسلام آباد آئے تو مرنے کےلیے آئیں گے۔ اگر ماضی میں جائیں تو مشرف کے خلاف تحریک شروع کرنے میں اپوزیشن جماعتوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ میں اس تحریک کا گواہ ہوں، یہ تحریک وکلا اور طلبا نے شروع کی تھی، جب آگ لگی تو جلتی پر تیل کا کام ان سیاسی جماعتوں نے کیا۔

 زرداری صاحب کی گرفتاری سے پہلے تک تو جیالے سمجھ رہے تھے کہ ان کو چھوٹ ہے، جو اب نہیں رہی۔ اب لائن کٹ گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالت بھی ایسی تھی کہ جب تک انہیں ضمانتیں ملنے کی امید تھی تب تک خاموش رہے، اب جب کچھ نظر نہیں آیا تو باہر نکلے ہیں۔ اگر ہائی کورٹ سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ضمانت مل گئی تو مریم نواز کا میک اپ زدہ انقلاب ٹھنڈا پڑ سکتا ہے۔

لگتا ہے ن لیگ ایک پیج پر نہیں۔ شہباز شریف بھی بیچ کے راستے کی تلاش میں ہیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سڑکوں پر نہ بیٹھی تو جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کے لوگ سڑکوں پر بیٹھ گئے تو اٹھانا ناممکن ہے۔

میرے ملک نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔ پہلے بیوروکریسی کی بادشاہ گری رہی، پھر فوج کود پڑی اور ایوب خان کا دور آمرانہ۔ یحییٰ خان کا زمانہ انتظامی طوائف الملوکی سے عبارت تھا، بھٹو کا نیم جمہوری نیم آمرانہ دور بھی کوئی نہیں بھول پایا، ضیا الحق کے ظالمانہ گرفت والے دور نے اگلی نسلوں کو چین سے نہیں سونے دیا۔ ضیا کے بعد سے مشرف کے آنے تک کا درمیانی گیارہ برس کا نیم خود مختار و نیم کٹھ پتلیانہ زمانہ۔ مشرف کا دور آدھا تیتر آدھا بیٹر تھا۔ زرداری دور قانون سازی کے اعتبار سے بہتر مگر کرپشن کے اعتبار سے ابتر۔ نواز شریف کی تیسری مدت اقتصادی اعتبار سے غنیمت مگر طرزِ حکمرانی کے لحاظ سے بند کمروں میں فیصلہ سازی کا دور۔مگر موجودہ دور کو کس خانے میں رکھا جائے؟ نہ سُر ہے نہ تال۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer