فیض آباد دھرنا کیس: انسدادِ دہشتگردی عدالت نے خادم رضوی کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا


اسلام آباد(24نیوز) دھرنا کیس کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی، خادم حسین رضوی اور افضل قادری پھر عدالت میں پیش نہ ہوئے، عدالت نے ملزموں کو مفرور قرار دے دیا۔عدالت کی جانب سے خادم رضوی کو گرفتار کرنے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس میں پولیس خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام رہی۔عدالت نے پولیس کو 4اپریل تک حتمی چالان جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ مرکزی ملزموں کی عدم پیشی پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔خادم حسین رضوی، افضل قادری اور مولانا عنایت کے خلاف3 مقدمات درج ہیں۔خادم حسین رضوی، افضل قادری اور مولانا عنایت ان مقدمات میں نامزد ملزم ہیں۔

 واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔پولیس نے خادم رضوی اور دیگر ملزموں کی گرفتاری پر سانحہ ماڈل ٹاون جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔پولیس حکام نے تفتیشی افسر کو کیس سیاسی طورپر ڈیل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ عدلیہ کی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس  

علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں فیض آباددھرنا ازخودنوٹس کیس کی سماعت میں آئی ایس آئی رپورٹ کوغیرتسلی بخش قراردے دیاگیا۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اس رپورٹ سے توزیادہ صحافیوں کوپتہ ہوتا ہے۔

فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورونےدستاویزات جمع کرانے کی استدعا کی توجسٹس قاضی فائزعیسٰی کا کہنا تھا یہ تو پریس رپورٹ ہے۔ آپ ایسے دکھا رہےہیں جیسے کوئی خفیہ دستاویزات ہوں۔ جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سےپوچھا کیا آپ آئی آیس آئی کی رپورٹ سے مطمئن ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا جی ہم مطمئن ہیں۔

دوسری جانب جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ اس رپورٹ میں واضح نہیں کیاگیا کہ یہ آدمی کون ہے۔ کرتا کیا ہے۔ آئی ایس آئی کو معلوم نہیں کہ خادم حسین رضوی کا ذریعہ آمدن کیا ہے۔ اتنا پیسا کہاں سے آرہا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی ایس آئی رپورٹ کے مطابق خادم حسین رضوی معاشی طور پرکرپٹ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے آئی ایس آئی کے نمائندے سےکہامجھے خوف آنے لگا ہے کہ ملک کی بڑی ایجنسی کا یہ حال ہے۔اس سے زیادہ تو صحافیوں کوپتہ ہوتا ہے۔

 نمائندہ وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ علامہ خادم حسین رضوی عطیات اکھٹے کرتےہیں۔جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ پھر یہ لکھ کر دیں کہ وہ دوسروں کے پیسوں پر پل رہےہیں۔