پانی کے بحران نے خطرہ کی ایک اور گھنٹی بجا دی


اسلام آباد(24نیوز) ملک میں پانی کا بحران مزید شدید ہو گیا۔ پینے کے صاف پانی کی جگہ مضرصحت آب نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ 24نیوز نے مشترکہ مفادات کونسل میں پیش ہونے والی نیشنل واٹر پالیسی کا ڈرافٹ حاصل کرلیا۔

ناکافی ڈیم، زیر زمین پانی کی کمی، شہریوں کو مضر صحت پانی کی فراہمی، ملک میں پانی کا بحران شدید ترین ہو گیا۔ وزیراعظم کا دعویٰ کہ مشترکہ مفادات کونسل میں قومی واٹر پالیسی منظور کرالی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ صوبے واٹر پالیسی سے متفق ہی نہیں۔

24نیوز نے مشترکہ مفادات کونسل میں پیش ہونے والی نیشنل واٹر پالیسی کا ڈرافٹ حاصل کرلیا۔ جس کے مطابق زیر زمین پانی کی دستیابی فی کس 800 سے 940 کیوبک میٹر سالانہ رہ گئی ہے۔بحران سے نمٹنے کے لئے بھارت سے واٹر شیئر مینجمنٹ سے معاہدے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ واٹر پالیسی میں پانی چوری اور ضیاع کو روکنے کے لئے میٹر سسٹم کی سفارش،کسانوں سے آبیانہ کی رقم بڑھانے،  دیہی علاقوں میں بھی پانی کے نرخ مقرر کرنے کا بھی کہا گیا۔

شہروں میں مضر صحت پانی پر جہاں تشویش کا اظہار کیا گیا وہیں پرپانی کو آلودہ کرنے پر صنعتوں کو بھاری جرمانوں کی بھی سفارش کی گئی۔

دریاﺅں کے کناروں پر تجاوزات، سیلاب کی روک تھام،  بیراجوں کے ڈیزائن میں تبدیلی اورنیا ٹیلی میٹری سسٹم متعارف کرانے، واٹر پالیسی میں چھوٹے درمیانے اور بڑے ڈیمزہنگامی بنیادوں پر تعمیراور نیشنل واٹر کمیشن کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔