ڈاکٹر نے محمد نواز شریف کی عمر بڑھا دی:چیف جسٹس



اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا طبی بنیادوں پر معطل کر کے ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست پر سماعت کی ہے۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری ہے، آپ نے ان کی ساری رپورٹس لگائی ہیں،وکیل نواز شریف نے عدالت کو بتایا کہ 29 جولائی 2018 سے نواز شریف کی مختلف میڈیکل رپورٹس لگائی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا ہمیں تمام میڈیکل رپورٹس پڑھنا ہوں گی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس ہیں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاہمیں معلوم ہے نوازشریف کا علاج لندن میں ہوا تھا، 29 جولائی 2018 کی میڈیکل رپورٹس سے پڑھنا شروع کرتے ہیں اور تمام رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں۔پمز اسپتال کی 29 جولائی 2018 کی رپورٹ موجود ہے، لندن کے ڈاکٹر نے بھی نوازشریف کی طبعیت سے متعلق خط لکھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ  ایسا لگتا ہے مریض کی میڈیکل ہسٹری ہے، 20 فروری سے قبل کی میڈیکل رپورٹس دکھائیں، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ 15 جنوری 2019 کو نواز شریف کی طبیعت خراب ہو گئی,چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ  کیا نواز شریف سے اس سے پہلے کی میڈیکل رپورٹ دکھا سکتے ہیں؟  نوازشریف کی نئی اور پرانی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیں گے۔

خواجہ حارث پھر بولے کہ 29 جولائی 2018 کو اڈیالہ جیل قید کے دوران پمز ڈاکٹرز نے رپورٹ دی،  بیرون ملک ڈیوڈ آر لارنس نواز شریف کا علاج کرتے رہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ  ہم جانتے ہیں کہ نواز شریف کا لندن میں علاج ہوتا رہا،  لندن کی رپورٹس یہاں کے ڈاکٹرز کو نہیں دی گئیں، ہم پمز کی پہلی رپورٹس دیکھنا چاہیں گے،  کیا نواز شریف کو اس سے قبل یہ مسئلہ تھا ؟  اگر ان کی حالت اس سے قبل بھی بگڑی تھی تو صورتحال مختلف ہوگی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد ریمارکس دیے کہ رپورٹس میں محمد نواز شریف کی عمر میں فرق ہے ایک میں 65سال تو دوسری میں 69سال ہے،ڈاکٹر نے  محمد نواز شریف کی عمر بڑھا دی ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer