بیت المقدس میں ناپاک امریکی وجود مسترد


استنبول( 24نیوز )مقبوضہ بیت المقدس جسے یروشلم بھی کہا جاتا ہے دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے،1948ءمیں جب برطانیہ نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی ریاست قائم کی تو یروشلم اس کا حصہ نہیں تھا، اقوام متحدہ نے علاقے کو فلسطین اور اسرائیل میں تقسیم کرنے کے لیے جو نقشہ بنایا اس میں بھی یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی سفارش کی تھی۔

مگر فلسطینیوں نے یہ پلان تسلیم نہیں کیا اور اپنے پورے علاقے کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ 1948 کی جنگ میں اسرائیل نے مغربی یروشلم پر قبضہ کر لیا جب کہ مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں رہا،1948ءکی جنگ میں اسرائیل نے عربوں کی متحدہ فوج کو شکست دے کر اردن سے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کا علاقہ بھی چھین لیا، اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو اپنا علاقہ قرار دیا تو 1967ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو مسجد اقصٰی میں نماز جمعہ ادا نہ کرنے دی

1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اور اسرائیل نے ایک دوسرے کا وجود تسلیم کیا،غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قائم کی گئی،اب اسرائیل مشرقی یروشلم کے علاقوں میں بھی یہودی بستیاں قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

اسرائیل عرب خطے کیلئے ناسور بن چکا ہے،اس کی وجہ سے پورے خطے کا امن داﺅ پر لگا ہوا ہے،آئے روز قتل و غارت کی خبریں گونجتی رہتی ہیں، مسلم ممالکاسرائیلی جارحیت پر مذمت سے آگے نہیں بڑھ سکے ہیں،مسلمانوں کی اس مذمت کا اسرائیل پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔

حالیہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے سفاکانہ قتل عام پر گزشتہ روز او آئی سی کا اجلاس ہوا جس میں تمام مسلمان ممالک کے سربراہان ترکی کے شہر استنبول میں اکٹھے ہوئے جس میں انہوں نے امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کو مسترد کردیا ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:امریکہ کا انوکھا کام،سی آئی اے کی خاتون سربراہ مقرر کردی

پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی اس ہنگامی اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے اپنے خطاب میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے،اس موقع پر انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی بھی مذمت کی،شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں جمعے کو یوم یکجہتی فلسطین کے طور پر منایا گیا،اپنے خطاب کے دوران انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے عزم کا اعادہ بھی کیا،انہوں نے کہا کہ اختلاف بھلا کر او آئی سی پلیٹ فارم سے مضبوط موقف دینےکی ضرورت ہے، سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین کے حل کیلیے اپنی قراردادوں پرعمل کرائے، مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی 70 سال سے بھارتی جبر و استبداد کا شکار ہیں اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت پرعملدرآمد نہیں کررہاہے، قابض افواج کے خلاف معاشی اور دیگر اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جارحیت جاری، فائرنگ سے 58 فلسطینی شہید، 27سو زائد زخمی

وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین پر سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بھی انحراف کیاجارہاہے جبکہ فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے جوڑا جارہا ہے، ہمیں آپس کے سیاسی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا اور فلسطین اور کشمیر کے معاملات پر مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا، مسئلہ فلسطین کیلیے عالمی عدالت انصاف کےآپشن پربھی غورکرناچاہیے، ان کے قتل عام اور ریاستی دہشتگردی کاخاتمہ ضروری ہے، آزاد اور خود مختار فلسطین چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہے۔