کیکڑاون، گھبرائیں مت

مناظرعلی

کیکڑاون، گھبرائیں مت


عوام کیلئے خوشخبری توجیسے عیدکاچاند ہی بن گئی ہو،معیشت کس طرف جارہی ہے کچھ سمجھ میں نہیں آرہااورآئے روزاشیاء مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہیں،کچھ بھی بازارمیں لینے چلے جائیں قیمتیں آپ کے ہوش اڑادیں گی، عام شہری کے مسائل توبڑھ ہی رہے ہیں ساتھ ہی اچھے بھلے کھاتےپیتے لوگ بھی پریشان ہیں اورحالات سے گھبرائے ہوئے ہیں۔گزشتہ روزملک کے ایک بڑے اینکرنے میرے سامنے جب گھرمیں فروٹ چاٹ پرپابندی کی بات کی توبادل نخواستہ اسے تسلیم کرناپڑا، کہنے لگے "میں اکیلاتوہوں نہیں،گھرمیں اورافرادبھی ہیں اورملازم بھی انہیں کی ذمہ داری ہے لہذا سب کیلئے روزانہ فروٹ چاٹ بنائیں گے توبہت خرچہ آئے گا،اس لیے عافیت اسی میں ہے کہ فروٹ چاٹ کچھ عرصہ نہ کھایاجائے"۔ ہرطرف پریشانیوں کے عالم میں جب وزیراعظم کی بات سنتے تھے توعام بندہ اورحکومتی حامی افراد کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ نہیں ہوتاتھا،وہ بات کیاتھی کہ عنقریب سمندرسے اتنابڑاتیل کاذخیرہ مل رہاہے جس کے بعدہمارامعاشی پہیہ اس رفتارسے چلے گاکہ بس پوچھوہی مت ۔ یعنی معیشت کی گاڑی120کی رفتارسے چلے گی،اسی سہانے خواب میں ہی تھے کہ ایک دم یہ خبربجلی بن کرگرپڑی کہ سمندرکے پانیوں میں دس کروڑ روپے بہانے کے بعدبھی تیل کی ایک بوندتک نہیں ملی اورکیکڑاون کے مقام پرڈرلنگ روک دی گئی۔مہنگائی کے ہاتھوں چورپاکستانیوں کیلئے امیدکی کرن بھی جس ٹمٹاتی شمع سے پھوٹ رہی تھی وہ بھی بجھ گئی۔ مگریہاں سوال ہے کہ کیاشمع بجھنے کے بعددوبارہ نہیں جل سکتی؟؟

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابرنے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ کراچی کے قریب گہرے سمندرمیں تیل وگیس کے ذخائرنہیں مل سکے،کیکڑاون کے مقام پر5500میٹرسے زائدگہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم جب ذخائرنہٰیں ملے توڈرلنگ روک دی گئی ہے،اپنے ان قارئین کی معلومات کیلئے بتاتاچلوں کہ یہاں اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی قیادت میں جوائنٹ وینچر نے ڈرلنگ کی جس میں امریکی کمپنی ایگزون موبل کے علاوہ او جی ڈی سی اور پی پی ایل شامل تھے۔اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر سے زائدتھا۔۔لیکن میں سمجھتاہوں گھبرانے کی با ت نہیں جیساکہ خوشخبری سناتے ہوئے خان صاحب بھی پریشانیوں سے چھٹکارے کاایک حل یہ بھی بتاتے ہیں کہ"گھبرانانہیں۔

دیکھیں ناں۔۔کاروبارمیں نقصان ہوتارہتاہے،اب اس کامطلب یہ تونہیں کہ بندہ گھبراکرکاروبار کرناہی بندکردے۔گاڑی چلاتے ہوئے اس کاانجن فیل ہوسکتاہے،ٹائرپھٹ سکتاہے،کچھ بھی ہوسکتاہے توکیامطلب؟؟۔۔۔گھبراکر گاڑی چلانابندکردیں۔۔ایسانہیں کرسکتے۔کسی بھی کام میں رکاوٹ کی وجہ سے وہ کام کُلی طورپرنہٰیں چھوڑا سکتا۔۔ گھبرائیں مت ۔۔اگرآپ نے ستاروں کوپالیاہے توپھراس سے آگے بہت کچھ ہے۔۔۔کہتے ہیں ناں کہ۔۔۔۔ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں۔۔۔کیکڑاون ہی ناکام ہواہے ناں۔۔۔توکیامطلب ہے کہ اب سمندرمیں کنوئیں کھودنے کیلئے جگہ کم پڑجائے گی؟؟۔۔۔۔ابھی تک کیکڑوں کی گنتی ون سے شروع ہوئی ہے۔۔ایک جگہ سے کچھ نہیں ملاتوکھوج کاسفرختم نہیں کیاجاسکتا۔۔ گھبرائیں نہیں۔۔

میری نظرمیں یہ جوتیل نہ ملنے کی ٹٰینشن ہے یہ ہونی نہیں تھی اگردو کام نہ ہوتے۔۔پہلایہ ہے کہ خان صاحب اس کھوج کولے کر اتنازیادہ عوام کوپُرامید نہ کرتے۔۔جب تیل ملتاتوظاہرہے اس سے بنی گالاکی ضروریات توپوری کرنی نہیں تھیں،وہ سارے کاسارا قوم کے ہی کام آناتھا۔بس غلط یہ ہواکہ اس کولے کر عوام کوخوشخبریاں سنانے کاسلسلہ نہیں ہوناچاہیےتھا۔۔۔دوسری بات یہ ہے کہ عوام اورخاص طورپرحکومتی جماعت کی حامی عوام کووزیراعظم کی ہربات کوسوشل میڈیاپراتنازیادہ شیئرکرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ اس بیان پرانہیں خود ہی بعدمیں سمجھ نہ آئے کہ اب کیابیان دیں۔۔یعنی عوام کونہ گھبرانے کی تنبیہہ کرنے والوں کوخود ہی اس موضوع پربات کرنے میں گھبراناپڑجائے۔۔اب میں بھی حکومت کونہ گھبرانے کامشورہ دیتاہوں کہ کوئی بات نہیں۔۔کھوج کاسفرجاری رکھیں۔ناکامی ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔۔اگرآپ گھبراگئے توپھرسمجھیں۔۔گئے۔۔۔لگے رہیں،اپنے لیے نہیں۔قوم کیلئے۔۔کچھ کرنے کاعزم ہے توپھرلوگوں کی باتیں بھی سنناپڑیں گی،مگریہ خیال رکھیں کہ ہلکی سی امید کی کرن کونازک مزاج عوام کیساتھ شیئرنہ کریں جب تک وہ کرن اظہرمن الشمس نہیں ہوجاتی۔۔کچھ لوگوں کوتوشایدیہ بات بھی بھول گئی ہوگی کہ سابق وزیراعلیٰ چنیوٹ میں لوہے کے ذخائرپربہت بیان دیاکرتے تھے۔۔اب وہ لوہاکیوں نہیں نکالا گیا؟؟یہ سوال آپ کیلئے اورسابق حکمرانوں کیلئے چھوڑرہاہوں۔۔جواب تلاش کریں۔۔نہ ملے توگھبرائیں مت ۔۔کہانی یہ بھی کیکڑاون سے کچھ مختلف نہ تھی،فرق صرف اتناسا ہے کہ وہ لوہاتھا اوریہ تیل۔۔کچھ کرسکتے ہیں توکریں۔ گھبرائیں مت ۔اوراگرکچھ نہیں کرسکتے توپھربات ختم۔۔پھربھی گھبرائیں مت ۔۔۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔