نااہل قرار دیا گیا تو سیاست اور پارٹی صدارت چھوڑ دوں گا: عمران خان


اسلام آباد(24 نیوز) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میری ایک بھی منی ٹریل جعلی ثابت ہوئی تو سیات چھوڑ دوں گا، اگر نا اہل ہوا تو شق 203 کا استعمال کر کے پارٹی صدارت نہیں کروں گا ۔

عمران خان نے کہا کہ ٹیکنو کریٹ حکومت کی گنجائش ہی نہیں ہے، اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کی قیادت کریں تو ان سے بات ہوسکتی ہے لیکن آصف زرداری کے ہوتے ہوئے پی پی سے اتحاد ممکن نہیں، بلاول ایک بچہ ہے جسے آصف زرداری کنٹرول کرتے ہیں، اصل طاقت زرداری کے پاس ہے جو پیپلز پارٹی کو استعمال کر رہے ہیں، اگر پیپلز پارٹی صحیح معنوں میں ایک جمہوری پارٹی بن جائے تو اس سے ہمیشہ بات چیت ہوسکتی ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نورا کشتی میں مصروف رہتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو برہنہ کرنے کا جو شرمناک واقعہ رونما ہوا اس کے فوری بعد آئی جی کے پی سے رابطہ کیا، داور خان کے علی امین گنڈا پور پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہوئے۔

اپنی اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین یا کوئی بھی نااہل ہوا تو پارٹی میں نہیں رہے گا، میری ایک بھی منی ٹریل جعلی ثابت ہوئی تو سیات چھوڑ دوں گا، اگر نا اہل ہوا تو شق 203 کا استعمال کر کے پارٹی صدارت نہیں کروں گا اور سیاست سے علیحدگی اختیار کرلوں گا تاہم میں مطمئن ہوں کہ میں نے تمام منی ٹریل جمع کرا دی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں حکومت مفلوج ہو چکی ہے، ن لیگ کے کئی ارکان ہم سے رابطے میں ہیں، نواز شریف پارٹی کو اپنی کرپشن بچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، شریف خاندان کے خلاف پہلی دفعہ میرٹ پر کارروائی ہو رہی ہے، شریف خاندان کو اس سے پہلے کوئی عدالت قانون کے نیچے نہیں لائی۔