ہرارے میں لوگوں کی بڑی تعداد کی موگابے کیخلاف مظاہرہ، استعفیٰ کا مطالبہ

ہرارے میں لوگوں کی بڑی تعداد کی موگابے کیخلاف مظاہرہ، استعفیٰ کا مطالبہ


(ویب ڈیسک): زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے اور دیگر شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے صدر رابرٹ موگابے کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آج حکمراں جماعت کے اجلاس کے دوران صدر موگابے کو پارٹی سربراہی سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔

 

دارالحکومت ہرارے میں ہزاروں افراد نے صدر رابرٹ موگابے کی رہائشگاہ کی جانب مارچ کیا، اس موقع پر مظاہرین نے فوج کے حق میں اور صدر موگابے کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ صدر موگابے فوری طور پر اقتدار سے الگ ہوجائیں، اس موقع پر صدر کی رہائش گاہ سے صدارتی قافلہ بھی روانہ ہوا تاہم اس میں صدر موگابے موجود نہیں تھے۔

 

دوسری جانب صدر رابرٹ موگابے اور فوجی قیادت کے درمیان آج ملاقات کا امکان ہے جس میں ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کی کوشش کی جائے گی۔

 

فوج نے 15 نومبر کو اہم سرکاری اداروں کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے صدر موگابے کو ان کی رہائش گاہ تک محدود کر دیا تھا۔ ادھر زمبابوے کی حکمراں جماعت کا اجلاس آج ہو رہا ہے جس میں امکان ہے کہ صدر موگابے کو پارٹی سربراہی سے ہٹا کر معزول نائب صدر ایمرسن مننگاوا کو دوبارہ عہدے پر بحال کر دیا جائے جبکہ موگابے کی اہلیہ کو بھی پارٹی ویمن لیگ کی سربراہی سے ہٹا دیا جائے گا۔

 

خیال رہے کہ صدر موگابے کی جانب سے نائب صدر اور سابق فوجی ایمرسن مننگاوا کی برطرفی کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوا تھا۔ ایمرسن مننگاوا کو 93 سالہ صدر موگابے کے بعد صدارت کا ممکنہ امیدوار سمجھا جاتا تھا، تاہم موگابے اپنی بیوی کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ 93 سالہ صدر موگابے نے 1970 میں برطانوی تسلط سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کی اور 1980 میں زمبابوے کو آزادی ملنے کے بعد رابرٹ موگابے نے اقتدار سنبھالا تھا۔