ٹرمپ اور عمران خان آمنے سامنے، ٹوئٹر پر سرد جنگ شروع ہوگئی

ٹرمپ اور عمران خان آمنے سامنے، ٹوئٹر پر سرد جنگ شروع ہوگئی


اسلام آباد( 24نیوز )وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان مخالف بیان پر امریکی صدر کو ریکارڈ درست کرنے کا مشورہ دے دیا ۔انھوں نے کہا کہ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں۔ اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بےشمار قربانیاں دیں ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ  نے الزامات  عائد کر تے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکام اسامہ کے بارے میں جانتے تھے۔ پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ دیتے تھے، پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، ہم پاکستان کو سپورٹ کر رہے تھے اور اسامہ بن لادن وہاں ملٹری اکیڈمی کے قریب آرام سے رہائش پذیر تھا، پاکستان کو افغانستان میں دہشت گردی روکنے کے لیے کہا گیا لیکن اس میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

امریکی صدر نے الزا م عائد کیا کہ پاکستان میں ہر کوئی اسامہ بن لادن کے بارے میں جانتا تھا لیکن انہوں نے ہمیں اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے یہ امداد بند کی کیونکہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے اس ٹویٹ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹرمپ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 75ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

جنگ سے ملکی معیشت کو 123 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا جبکہ امریکا نے صرف 20 ارب ڈالرز دئیے ۔جنگ کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو نقصان پہنچا ۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا پاکستان نے امریکی اور اتحادی افواج کو بغیر معاوضہ زمینی اور فضائی راستے دیے۔ مسٹر ٹرمپ کسی اور اتحادی کا نام بتا سکتےہیں جس نے اتنی قربانیاں دی ہو۔ واشنگٹن انتظامیہ بتائے کہ ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو،ڈھائی لاکھ افغان اہلکاروں اور ایک ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں طالبان پہلے سے کیوں زیادہ مضبوط ہیں۔ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے امریکا کو چاہئے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔

وزیراعظم عمران خان کی ٹویٹ کے بعد امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نےپاکستان سے متعلق پھرہرزہ سرائی کردی۔ اپنی تازہ ٹویٹ میں کہنے لگے کہ ہم نے اربوں ڈالردئیےلیکن پاکستان نےکبھی نہیں بتایاکہ اسامہ بن لادن کہاں ہے۔ پاکستان امدادلیتاہے اوربدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ افغانستان ایک اورمثال بن رہاہے۔ اب مزیداربوں ڈالرپاکستان کونہیں دینگے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین پربھی برس پڑے۔ اسامہ بن لادن کو بہت پہلےپکڑلیناچاہیےتھا۔نائن الیون حملے سے پہلے ہی میں نے اپنی کتاب میں اسامہ کی نشاندہی کردی تھی، صدر بل کلنٹن اسامہ بن لادن کے معاملے میں چوک گئے'

امریکی صدر کے جواب دینے کے بعد عمران خان ن ایک بار پھر انکو منہ توڑ جواب دیدیا ، ان کا کہنا تھا کہ  ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے موجب ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ کا خمیازہ جانوں کے ضیاع اور معاشی عدم استحکام کی شکل میں بھگتا ہے۔ ٹرمپ کو تاریخی حقائق سے آگاہی درکار ہے۔ہم امریکی جنگ میں پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں،اب وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا۔

دوسری جانب اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے ماسٹر مائنڈ سابق امریکی جنرل مک ریون ولیم نے ٹرمپ کی میڈیا پر مسلسل تنقید کو امریکی آئین کے لیے خطرہ قرار دے دیا,  انہوں نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا جارحانہ رویہ امریکا میں جمہوریت کے لیے خطرہ ہے, جنرل ولیم کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کی حمایت کے الزام میں انکے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔

امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا  کہ وہ ہیلری کلنٹن یا کسی اور کی حمایت نہیں کرتے تھے البتہ وہ جارج ڈبلیو بش اور صدر اوباما کے مداح رہے ہیں جنہوں نے بہت مشکل وقت میں رائے عامہ کو تقسیم نہیں ہونے دیا۔

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔