العزیز ریفرنس: نواز شریف بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جذباتی ہوگئے


اسلام آباد(24نیوز)سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس کیس کی سماعت ہوئی ،اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہو ئے نواز شریف جذباتی ہو گئے۔

 تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران اپنا بیان قلمبند کروایا، بیان لکھواتے ہوئے سیدھے جج سے مخاطب ہو  کر سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیس بنایا کیوں گیا؟ دنیا بھر کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں، میرے بچوں نے اگر مجھے پیسے بھیج دیے تو کون سا عجوبہ ہو گیا، میں وزیراعظم رہا ہوں، میرے بچے یہاں کاروبار کریں تب مصیبت، باہر کریں تب مصیبت،میرے خیال میں انہوں نے اچھا کیا کہ بیرون ملک کاروبار کیا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ   کیس تو بنا دیا گیا استغاثہ کو بھی معلوم نہیں ہو گا کہ کیس کیوں بنایا،میرے اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم ایف بی آر ریکارڈ میں ظاہر کی گئیں،سپریم کورٹ میں میری طرف سے متفرق درخواست جمع کروائی گئی جس میں جے آئی ٹی کے اکٹھے کئے گئے نام نہاد شواہد اور رپورٹ کو مسترد کرنے کی استدعا کی،بیان قلمبند کرواتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی زبان پھسل گئی اور انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران جو بیانات ریکارڈ کیے وہ قابل قبول شہادت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو احتساب عدالت کی جانب سے 151 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ دیا گیاتھا جس میں سے گذشتہ تین سماعتوں میں وہ 120 سوالوں کے جوابات دے چکے ہیں۔

 دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں نوازشریف،شاہدخاقان کیخلاف بغاوت کی کارروائی کیلئے درخواست پرسماعت  ہوئی، عدالت کی جانب سے فل بینچ کے درخواستگزارکوقابل سماعت ہونےپردلائل دینے کی ہدایت کی گئی،  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،نوازشریف عدالت پیش نہ ہوئے جبکہ صحافی سرل المیڈا کی جانب سے بھی حاضری معافی کی درخواست دی گئی،  ہائیکورٹ نے درخواست پرسماعت 11دسمبرتک ملتوی کردی۔