سانحہ ماڈل ٹاؤن، نئی جےآئی ٹی کیلئےلارجربینچ تشکیل


لاہور(24نیوز)  چیف جسٹس پاکستان کے سپریم کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کےدوران ریمارکس دیتے ہو ئے کہنا تھا کہ ٹرائل کےمعاملےمیں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، نئی جےآئی ٹی کیلئےلارجربینچ تشکیل دیدیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس آف پاکستان نےنئی جےآئی جی کیلئےلارجربینچ تشکیل دیدیا، لارجزبینچ میں چیف جسٹس سمیت 5جج شامل ہوں گے،بینچ میں دیگر صوبوں کی نمائندگی بھی ہو گی،لارجر بینچ 5دسمبر سے کیس کی سماعت کرے گا۔

ڈاکٹرطاہرالقادری،طالبہ بسمہ،شہبازشریف کےوکیل اعظم نذیرتارڑ،سابق آئی جی مشتاق سکھیرا سمیت دیگرپولیس اہلکار بھی پیش ہوئے، ڈاکٹرطاہرالقادری کا کہنا تھا کہ  مشتاق سکھیراپرفرد جرم عائد ہونے کے بعدکیس زیرو پرآ گیا،دوبارہ تفتیش کے لیے نئی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے، میاں شہبازشریف کےوکیل اعظم نذیرتاڑنےکیس کی تیاری کے لیےوقت مانگا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ استغاثے میں چارج فریم ہوچکا ہے،26گواہ پرائیویٹ استغاثے میں بیان دے چکے ہیں، نئی جے آئی ٹی کیلئے قانونی پہلوؤں پرمہلت درکار ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگراستغاثہ اورایف آئی آرہوتوپہلےاستغاثہ کافیصلہ ہوتاہے،ٹرائل کےمعاملے میں مداخلت نہیں کرناچاہتے۔

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری کےباہرخرم نوازگنڈاپورکا میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھاکہ کیس سننےپرچیف جسٹس کےشکرگزار ہیں،نوازشریف کےوکیل نےکہا کہ انہوں نے تیاری نہیں کی،  ساری زندگی بھی گزارنی پڑجائے توانصاف کیلئے گزاردیں گے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کب ہوا

17جون 2014ءکو لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا،پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق جبکہ نوے زخمی ہوئے، اسی روز ہی سانحہ کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں تھانہ فیصل ٹاؤن میں درج کر لیا گیا، ایف آئی آر نمبر 2004(510)جس میں ساری ذمہ داری عوامی تحریک پر ڈالی گئی۔

ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے بیٹے حسین محی الدین، عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈاپور، چیف سکیورٹی آفیسر سید الطاف شاہ، شیخ زاہد فیاض سمیت 56 نامزد اور 3 ہزار نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا۔