ضمیر کی آواز

انعم رمضان

ضمیر کی آواز


دنیاگلوبل ویلج بن چکی ہے اورہم ہزاروں میل دور کی آوازیں اور حرکت کرتی تصویریں اپنے ہاتھ پردیکھ سکتے ہیں لیکن یہ کیسی انوکھی بات ہے کہ ہم سب سے زیادہ قریب اپنی ذات کے ہیں اوربعض دفعہ اپنے ضمیر کی آوازہی نہیں سنتے۔مجھے ضمیرکی آوازسنائی دی ،سورج ڈھل رہاتھا جب میرے ساتھ میری زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا۔

ایک تھکا دینے والے سفر سے واپسی پر جب میں مارکیٹ کے قریب پہنچی تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی ضرورت کی کچھ اشیاء ہی خرید لوں ، ایک چھوٹے سے مال کا رخ کیا ، ضرورت کی چند اشیاء لینا تھیں لیکن چیزوں کا انبار دیکھتے ہی پانچ چھ چیزیں مزید خریدنے کا ارادہ کر لیا، ٹرالی بھرتے ہی کاونٹر پر پہنچی ،کیشیر نے اشیا کی ایک ایک کرکے قیمت دیکھی اور بل بناناشروع کر دیا، میں ابھی ان خیالوں میں ہی گم تھی کہ کہیں کوئی چیز تو نہیں رہ گئی ،اچانک آواز آئی میڈم آپ کا بل 4000 روپے ہے۔میں پہلے تو چونک گئی اور پھربغیر سوچے پرس میں سے پیسے نکالے اور بل ادا کردیا۔ چیزوں کو اٹھایا اورمال سے باہر نکل آئی ،گھر جانے کے لیے سٹاپ پر پہنچی تو ایک معذور شخص بھیک مانگ رہا تھا ،اس شخص نے مجھے مخاطب کیا اور کہاکہ باجی اللہ کے نام پر10 روپے دے دو ، میں نے اس کی طرف دیکھا اور منہ بسورتے ہوئے یہ کہہ کر آگے چلی گئی کہ ان لوگوں کاتو کام ہی مانگنا ہے ،پتہ نہیں،دن میں کتنا کما لیتے ہوں گے۔

ابھی میں ان سوچوں سے باہر نکلی نہیں تھی کہ نجانے کس چیز نے میرے قدم روک لیے، ایک آواز آئی کہ اے بندی اپنی ذات پرتو 4000 روپےلگاتے وقت تو نے ایک پل بھی نہ سوچااوراللہ کے نام پر 10 روپے نہ دینےکےلیے سو بہانے ڈھونڈ رہی ہے ، وہ ذات جس نے تجھے اس قابل بنایا کہ تو اس کی نعمتیں بغیر کسی پریشانی کے خرید سکے اور تو اس کے نام پر کسی غریب کوچند پیسے بھی نہیں دے سکی ،اس آواز نے مجھے جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ آواز کسی شخص کی نہیں بلکہ میرے ضمیر کی آواز تھی جس نے مجھ پر ایک سکتہ طاری کر دیا ۔

ٹریفک اورلوگوں کے ہجوم میں میری نظریں اس فقیرکو ڈھونڈنے لگیں،اس گھڑی میں ہرصورت میں اس فقیرکو کچھ دینا چاہتی تھی کیوں کہ میرا ضمیر مجھے مسلسل ملامت کررہاتھا کہ یہ انکار تو نے انسان کو نہیں بلکہ انسانوں کے خالق کو کیاہے۔ بلآخر مجھے وہ اللہ کا بندہ دور زمین پر رینگتا ہوا نظرآیا،میں جلدی جلدی اس کی طرف چلنے لگی تاکہ وہ کہیں ادھر ادھر نہ چلاجائے اورمیں اپنے ضمیر کے سامنے ہی شرمندہ رہوں۔ قریب جاکر اس سے معذرت کی،یہ معذرت اس کیساتھ اپنی طرف سے کیے گئے رویے کی تھی اورپھر کچھ پیسے اس کے ہاتھ میں تھمکا دیے جس پر اس نے دعائیں دیں۔اس کے چہرے پر نظرآنے والی خوشی نے مجھے مطمئن کردیا۔میں نے آسمان کی طرف دیکھا اوراللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ رب العزت تو نے مجھے بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں اور عزم کیا کہ آئندہ اللہ تعالی کے عطاکیے ہوئے رزق کو اس کی راہ میں خرچ کروں گی ،اُس ذات سے کچھ رازونیاز کی باتوں کے بعد میں گھر کو روانہ ہو گئی ۔

سارے راستے بس یہی سوچتی رہی کہ اس شخص کی جگہ میں بھی ہو سکتی تھی ؟اس سوال نے مجھ پر کھپکپی سی طاری کر دی ،میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور دل اللہ تعالی کے حضور سجدے میں تھا کہ اس نے میرا ہاتھ دینے والا بنایا ہے،لینے والا نہیں ۔ خداکی راہ میں خرچ کرنے کے لیے صرف جیب میں سکے ہی نہ ڈھونڈتے رہیں بلکہ دلوں کو بڑا کرلیں تاکہ اللہ تعالی بھی راضی ہو اور دلوں کو سکون بھی میسر آسکے. میرے ضمیر نے میری سوچ بدلی،کیوں کہ میں نے ضمیر کی آواز سنی،آپ بھی اپنے ضمیر کی آواز ضرور سنئے۔ ضمیر ہمٰیں آواز دیتاہے لیکن ہم دنیا کی رونقوں میں اتنا مگن ہوچکے ہیں کہ ہمیں اس شور میں اپنے ہی ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی،ہمارے اپنے اندربہت کچھ ہے،ہمارے انتہائی قریب بے شمار چیزیں ہٰیں،حتی کہ ہمارا خالق بھی ہمارے بہت قریب ہے،اس نے ہم پر یہ واضح بھی کیاہے کہ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ پھرہم اس حقیقت سے کیسے انکارکرسکتے ہیں؟ ہم پراللہ تعالیٰ کے حقوق کیساتھ ساتھ بندوں کے بھی حقوق ہیں جنہیں پورا کرنے سے ہی ہماری روح اطمینان میں رہے گی اورہم اپنے ضمیرکو بھی بہترجواب دے سکتے ہیں۔

انعم رمضان سٹی نیوزنیٹ ورک کے نیوزروم سے وابستہ ہیں،اصلاح معاشرہ کی کوشش میں لگی رہتی ہیں، اچھائی کوعام کرکے برائی جڑسے مٹاناچاہتی ہیں،وہ سمجھتی ہیں کہ اگرہرانسان خود ٹھیک ہوجائے توسارا معاشرہ ٹھیک ہوسکتاہے۔اس سوچ کوعام کرنے کے لیے قلم کوبہترین ذریعہ سمجھتی ہیں۔