چیئرمین نیب کی برسر اقتدار کرپٹ لوگوں کو وارننگ



اسلام آباد( 24نیوز ) چیئرمین نیب نے کہا کہ ایک شخص لندن ،امریکا میں علاج کراتا ہے کیا باقی انسان نہیں،مجھ پرذاتی تنقید کرکے احتساب کے عمل کونہیں روکا جا سکتا،ہماری طرف سے نہ ڈیل ہوگی،ڈھیل ہوگی نہ این آر او ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں تقریب سے خطاب سے خطاب کرتے ہوئےچیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہناتھا کہ نیب کسی کے گھرجائے گی توخاتون افسرساتھ ہوگی،بعض کیسزمیں تولوگ خود خاتون کوڈھال بنایا کرتے ہیں،کوئی یہ نہ سمجھے کہ حکومت میں ہے توبری الذمہ ہوجائے گا،ایک شخص لندن ،امریکا میں علاج کراتا ہے کیا باقی انسان نہیں؟

چیئرمین نیب کا کہناتھا کہ مجرم کو پکڑنا جرم ہے تویہ جرم ہوتا رہے گا،ہرطاقت نیب کے دروازے کے باہرختم ہوجاتی ہے،ایک طرف بیڈپرتین تین بندے دوسری طرف زکام ہوجائے توعلاج لندن میں،مجھ پرذاتی تنقید کرکے احتساب کے عمل کونہیں روکا جا سکتا،نیب سمجھوتہ کرے یا میں سرنڈر کروں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ہماری طرف سے نہ ڈیل ہوگی،ڈھیل ہوگی نہ این آر او ہوگا۔

چیئرمین نیب کا کہناتھا کہ دیکھناہوگا کہ30سال میں کتنی کرپشن ہوئی اور14ماہ میں کتنی؟2017 کے بعد کرپشن کا کوئی بڑا اسکینڈل سامنے نہیں آیا، نیب کرپشن فری پاکستان کی منزل کا فیصلہ کر چکا ہے,یکطرفہ احتساب کی شکایت کا ازالہ کریں گے،اب ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے،کوئی توقع نہ رکھے کہ صاحب اقتدار ہے اسکی جانب آنکھیں بند رکھیں گے،نیب کا تعلق صرف پاکستان اور پاکستانی عوام سے ہے،نیب کا تعلق کسی سیاسی گروپ کسی سیاسی جماعت سے نہیں.

چیئرمین نیب  جسٹس (ر) جاوید اقبال کا مزید کہناتھا کہ نیب کے تمام افسربہتر کارکردگی کامظاہرہ کررہے ہیں،نیب کے ججز کی تعداد25سے بڑھا کر50کی جائے،نیب راولپنڈی کی کارکردگی بہتر ہے, بی آرٹی کیس میں نیب ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتا،بی آرٹی میں سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر دیا ہوا ہے،کوشش کریں گے کہ حکم امتناع ختم کرالیں.

ان کا کہناتھا کہ مجھ پرذاتی تنقید کرکے احتساب کے عمل کونہیں روکا جا سکتا، تنقید کرنے سے کسی کے قد میں اضافہ نہیں ہو گا, نیب کا قانون نہ پڑھنے والے بھی تنقید کرتے ہیں, نیب کی کارکردگی کو نیب کے ریڈار پر لوگوں کی باتوں سے نہ پرکھیں,  بجٹ کروڑوں کا اوربچہ ویکسین نہ ملنے پر ماں کی گودمیں دم توڑدیتا ہے, کچھ لوگ صوبے کا کارڈ استعمال کرتے ہیں نیب کو کوئی فرق نہیں پڑتا.