کپاس کی پیداوار میں اکیس فیصدکمی!

کپاس کی پیداوار میں اکیس فیصدکمی!


لاہور(24 نیوز) کپاس کی پیداوار میں اکیس فیصدکمی ہوگئی جس کے باعث پیداواری ہدف پورا ہونا ناممکن ہوگیا، ملکی ضروریات پوری کرنے کےلیے ڈیڑھ ارب ڈالر تک کی روئی درآمدکرنےکی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

 پاکستان کاٹن جنیرزایسوسی ایشن کےمطابق ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 15 نومبر تک 68 لاکھ 57 ہزار 518 بیلزکےبرابرپھٹی لائی گئی، جوگزشتہ سال سے 18 لاکھ 14 ہزاربیلزکم ہے۔ گزشتہ سال اس عرصے تک 86 لاکھ 71 ہزاربیلزکےبرابرپھٹی مارکیٹ میں لائی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب کی پیداوار میں 26فیصدکمی ریکارڈکی گئی۔

اب تک جننگ فیکٹریوں میں 36 لاکھ 92 ہزار 205 بیلز کے برابر پھٹی لائی گئی جوگزشتہ سال سے 12 لاکھ 93 ہزار بیلز کم ہے۔سندھ کی فیکٹریوں میں 31 لاکھ 65 ہزار 313 بیلزکپاس لائی گئی، جو گزشتہ سال سے3.3 فیصدکم ہے۔حکومت کی طرف سے اس سال کپاس کی پیداوار کا ہدف ایک کروڑ دو لاکھ بیلز مقرر کیا گیا تھا، تاہم ماہرین کے مطابق کپاس کی پیداوارہدف سے 30 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔

مہنگائی کےباعث کاشتکاروں کی طرف سےکھاداور زرعی ادویات کےاستعمال میں کمی کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوارمیں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن کےمطابق کپاس کی پیداوار میں کمی کےباعث انڈسٹری کو ملکی ضروریات پوری کرنےکےلیےڈیڑھ ارب ڈالر تک کی روئی درآمدکرنےکی ضرورت ہوسکتی ہے۔

Malik Sultan Awan

Content Writer