بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیل سامنے آگئی

بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیل سامنے آگئی


اسلام آباد( 24نیوز )بیرون ملک پاکستانیوں کے ظاہر نہ کیے گئے بینک اکاوَنٹس سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ہنڈی,حوالہ اور سمگلنگ روکنے سے متعلق کیے گئے اقدامات پر حکومت سے 15 روز میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 15 روز کیلئے ملتوی کردی۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ظاہر نہ کیے گئے اکاوَنٹس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت نے منی لانڈرنگ روکنے کیلئے ٹاسک فورس بنا دی ہے اور ہنڈی اور حوالہ سمیت دیگر غیر قانونی طریقوں کو روکا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت اسمگلنگ پر قابو کیوں نہیں پارہی۔ باڑا مارکیٹ میں سمگلنگ کا سامان آسانی سے مل جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سمگلنگ پر قابو پانے کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے جبکہ ہنڈی اور حوالے کا کاروبار کرنے والے 44 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور لاہور،کراچی,فیصل آباد اور ملتان سمیت دیگر شہروں میں کاروائیاں بھی جارہی ہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بنک سے کہا کہ طارق باجوہ صاحب آپ سے ہمیں بہت امیدیں وابسطہ ہیں لیکن جو نتائج ہم چاہ رہے تھے وہ نہیں مل رہے،آپ کو کوئی حل تو ضرور دینا ہوگا۔ گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ 1947 کے بعد پہلی بار تبدیلی آرہی ہے۔ حکومت کی جانب سے قانون سازی اور ترامیم کی جارہی ہیں جس سے لوٹی رقوم کی واپسی کا راستہ ہموار ہوگا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ لوٹی دولت واپس لانے کیلئے دوسرے ممالک کے دائرہ اختیار میں داخل ہونا پڑتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آپ کی ساری پیش رفت کاغذی ہے حقیقت میں کچھ نہیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے ملکی دولت لوٹی ہے تو عدالت آرٹیکل 184/3 کے تحت کاروائی کرنے کی مجاز ہے۔ میرے اندازے کیمطابق ایک ہزار ارب روپے مالیت کی پاکستانیوں کی دبئی میں جائیدادیں ہیں، اگر حکومت ان جائیدادوں کے مالکان کو بلانا چاہتی ہے تو ٹاسک فورس کے ذریعے بلا لے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ دبئی میں 2700 پاکستانیوں کی جائیدادوں کی ملکیت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ایک شخص کی ملکیت میں 5 سے زیادہ بھی جائیدادیں ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت مانگی جسے عدالت نے مسترد کردیا جبکہ 15 دن میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 15 دن کے لیے ملتوی کردی۔