قرض نہیں تو نئے نوٹ سہی،حکومت ملک کیلئے بوجھ بن گئی

قرض نہیں تو نئے نوٹ سہی،حکومت ملک کیلئے بوجھ بن گئی


کراچی( 24نیوز )بینکوں سے ریکارڈ قرض لینے سے بھی اخراجات پورے نہیں ہوئے،، تو حکومت نے نوٹ چھاپنا ہی شروع کر دیئے، زیر گردش نوٹ تاریخ میں پہلی بار 44 کھرب روپے سے بھی تجاوز کر گئے۔
تفصیلات کے مطابق قرضے پہ قرضے،حکومت کے پاس پھر بھی رقم کم پڑ گئی،نئے نوٹوں کی دھڑا دھڑ چھپائی،اپریل کے دوسرے ہفتے میں 42 ارب 18 کروڑ کے نئے نوٹ جاری کیے گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:ادارے عمارتوں سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں:چیف جسٹس
ملکی تاریخ میں پہلی بار زیر گردش نوٹوں کی مالیت 44کھرب ،20 ارب 18 کروڑ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔اپریل کے پہلے ہفتے میں بھی 93 ارب 12 کروڑ کے نوٹ چھاپے گئے ۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے حکومت نے اخراجات پورے کرنے کے لیے 2 ہفتوں کے دوران مرکزی اور کمرشل بینکوں سے 18 کھرب 18 ارب کے نئے قرضے لے لیے ۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح حکومتی اندازوں سے کم رہنے کا امکان ظاہر کر دیا،رواں مالی سال ترقی کی شرح حکومتی اندازوں سے 0.2 فیصد کم اور اگلے سال توقع سے 1.5 فیصد کم ہو سکتی ہے،رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح وہ نہیں رہے گی جو حکومت نے بتائی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ٹیکس ریلیف دینے کیلئے سرگرم ہوگیا
یاد رہے آئی ایم ایف کی گزشتہ سال اکتوبر میں جو رپورٹ نکالی تھی اس میں آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کی ترقی کی شرح 6 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھالیکن حکومتی پالیسیوں اور اس کے نتائج کے بعد آئی ایم ایف نے اپنی بات واپس لے لی اور اپنے پہلے اندازے میں ایک اعشاریہ تین فیصد کی کمی کر دی۔
آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا جاری کھاتوں کا خسارہ 4.8 فیصد،، مہنگائی کی شرح 5 فیصد اور بے روزگاری کی ۔
واضح رہے ٹھیک ایک ماہ دس دن بعد موجود حکومت ختم ہوجائے گی ،یکم جون کو ملک میں نگران سیٹ اپ حکومتی انتظامات سنبھال لے گا۔