اسدعمر تو چلے گئے،حفیظ شیخ آگئے، کیا اب اچھی خبر آئے گی؟

اسدعمر تو چلے گئے،حفیظ شیخ آگئے، کیا اب اچھی خبر آئے گی؟


اسلام آباد(24نیوز) سابق وزیرخزانہ اسدعمرکوآئی ایم ایف،مہنگائی بڑھنےاورزرمبادلہ اورروپےکی قدرمیں کمی کی وجہ سےہٹایاگیا توحالات کی بہتری کے سلسلے میں عوام کو زیادہ خوش فہمی کاشکارنہیں ہوناچاہیے، ماضی کے وزیرخزانہ یعنی موجودہ مشیرخزانہ کا ریکارڈبھی کچھ اچھا نہیں۔

اسدعمرتوچلےگئے لیکن عوام زیادہ خوش نہ ہوں کیوں کہ نئےمشیرخزانہ بھی کچھ کم نہیں۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ فارن کوالیفائیڈ،ماہراقتصادیات اورعالمی اداروں میں اعلی عہدوں پر براجمان رہ چکےہیں اور3سال تک پاکستان کےوزیر خزانہ بھی رہے۔ڈاکٹرحفیظ شیخ کی وزارت خزانہ کادورپاکستان کے لیےمعاشی اعتبار سے کوئی اچھا دور نہیں رہا۔ماضی میں عمران خان خودبھی حفیظ شیخ کی معاشی پالیسیوں کےسخت ناقدرہےہیں۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ مارچ 2010 سے فروری 2013 تک پاکستان کے وزیر خزانہ رہے۔جب انہوں نے چارج سنبھالا تو پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی پروگرام چل رہا تھا۔پہلے سال ہی معاشی اصلاحات نا ہونے کی وجہ سےآئی ایم ایف نے قرضے کی مزید قسطیں دینے سے انکار کر دیاتھا جس کی وجہ سےپاکستان کو3.2 ارب ڈالر نہ مل سکے۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کےتین سالہ دور میں مہنگائی کی شرح 8 فیصد سے زیادہ ہی رہی۔روپے کی قدر میں 16.5 فیصد کمی ہوئی اور ڈالر 84 روپے سے بڑھ کر 98 روپے کا ہوا۔جبکہ تجارتی خسارہ 31 فیصد بڑھ گیا۔مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی 4 ارب 77 کروڑ ڈالر کی کمی رکارڈ کی گئی تھی۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔