ملک بچے گا یا کرپٹ افراد، وزیراعظم کا بدعنوانی کیخلاف بڑا قدم

ملک بچے گا یا کرپٹ افراد، وزیراعظم کا بدعنوانی کیخلاف بڑا قدم


اسلام آباد(24نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  اب یا تو ملک بچے گا یا کرپٹ افراد ، انھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی تمام گاڑیاں نیلام ہوں گی، صرف 2ملازم اور 2گاڑیاں رکھوں گا۔

بیرونی قرضوں کی واپسی: 

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کی واپسی ایک اہم چیلنج ہے، ملک کا بیرونی قرضہ 95ارب ڈالر ہے،پاکستان 28 ہزار ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا  کہ 10 سال قبل پاکستان کا قرضہ 6 ہزار ارب روپے تھا جو کہ 2013 میں بڑھ کر 15 ہزار ارب اور اب یہ 28 ہزار ارب روپے ہوچکا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے۔

بچوں کی تعلیم: 

پاکستان میں ہر دوسرا بچہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے، پاکستان ان 5ملکوں میں شامل ہے، جہاں بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ سوا دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، آبادی بھی بڑھ رہی ہے اور اگر انہیں تعلیم نہ دی گئی تو ان بچوں کا کیا ہوگا؟ انھوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنایا جائے گا، تعلیم کے شعبے کی بہتری کیلئے کام کریں گے اور مدارس میں تعلیم کا نظام اس طریقہ سے بہتر  کریں گےکہ وہاں سے بھی ڈاکٹرز، وکیل ، ججز، بیورکریٹ جیسے عظیم لوگ نکلیں گے۔

کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کو بڑا انعام دینے کا اعلان: 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، نیب کو طاقتور بنانے کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔انھوں نے کہا کہ کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا تو بہت شور مچے گا، ان کا کہنا تھا کہ یا ملک بچے گا یا کرپٹ لوگ بچیں گے۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو 20سے 25فیصد انعام دینے کا اعلان بھی کردیا۔

اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ اپنے ڈالر پاکستانی بنکوں میں رکھیں،منی لانڈرنگ کے معاملہ کی نگرانی وہ خود کریں گے۔

 پولیس اور عدالتی نظام ٹھیک کرنے کا عزم:

انھوں نے کہا کہ ملک میں پولیس کا نظام ٹھیک کرنا ہے،  ملک میں بچوں سے زیادتی کے بہت کیسز سامنے آئے، بچوں سے زیادتی کے خاتمے کیلئے کام کریں گے۔انھوں نے کہا کہ پنجاب پولیس ٹھیک کرنے کیلئے ناصر درانی کو مشیر بنایا جائے گا، انہیں پنجاب حکومت کی کابینہ میں بطور مشیر شامل کیا جائے گا۔عدالتی کیسز سے متعلق عمران خان نے کہا کہعدالتوں میں مقدمات سالہا سال چلتے ہیں، ایک سال میں سارے دیوانی مقدمات نمٹانے کی کوشش کرینگے۔

ہیلتھ کارڈ کا اعلان: 

عمران خان نے کہا کہ ہمیں اپنے سرکاری ہسپتالوں کا نظام ٹھیک کرنا ہے، جن دو صوبوں میں ہماری حکومت ہے وہاں خود اور سندھ حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ اپنا نظام درست کریں۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پورے ملک کے غریب گھرانوں کے لیے ہیلتھ کارڈ کا بھی اعلان کیا۔

ٹاسک فورس کا اعلان: 

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنےپاؤں پر کھڑا ہونا ہے ، کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے، ہمارے خرچے زیادہ اور آمدن کم ہے، کفایت شعاری کریں گے،جس کے لیے ڈاکٹر عشرت کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کریں گے، سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ون ونڈو کا قیام: 

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں اعلان کیاکہ چھوٹی صنعتوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، سرمایہ کاری میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری لے کر آئیں گے، جس کے لیےوزیر اعظم ہاؤس میں ون ونڈو قائم کی جائے گی۔

وزیراعظم کا سادگی سے زندگی گزارنے کا اعلان: 

عمران خان نے کہا میں قوم سے وعدہ کرتاہوں کہ سادہ ترین زندگی گزاروں گا، قوم کاایک ایک پیسہ بچا کردکھاؤں گا، جب تک اقتدارمیں ہوں کوئی کاروبار نہیں کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ  میں ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہ رہاہوں او ر میں دو ملازم رکھوں گا اوردو سرکاری گاڑیاں رکھوں گا ۔ باقی گاڑیاں نیلام کردی جائیں گے۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔