پاکستان، بھارت کے پاس گفت وشنید کے علاوہ کوئی حل نہیں: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی


اسلام آباد(24نیوز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عہدہ سنبھالتے ہی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی انھوں نے کہا  کہ کشمیر سمیت دیرینہ مسائل کا حل منہ موڑنے میں نہیں بلکہ بات چیت میں ہے۔ امریکا کیساتھ دو ٹوک بات میں امریکا کی ترجیحات اور اپنی ضروریات سامنے رکھیں جائیں گی۔

حلف برداری کے فورا بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دفتر خارجہ پہنچے،  اُنھوں نے کہا کہ قومی وقار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وزیر خارجہ نہ ہونے کے باعث کچھ قوتوں نے پاکستان کو تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی ایسی کسی قوت کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ امریکہ کیساتھ پہلے بھی کام کیا ہے انکی ترجیحات کا اندازہ ہے لیکن اپنی ضروریات سے بھی آگاہ ہیں۔ 
بھارت کے ساتھ تعلقات پر وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کل مبارکباد کا خط آیا ہے، بھارت کی جانب سے بھی مذاکرات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے بہت مثبت رویہ ہے، وزیر خارجہ نے بھی بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سب سے پہلے افغانستان کے وزیر خارجہ سے رابطہ اور کابل کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ افغانستان سے ہمارا امن جُڑا ہوا ہے
افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بہتر خارجہ پالیسی بنانے کے لیےتمام اپزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلوں گا۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر تعینات سفیروں کی کارکردگی کا جائزہ لوں گا۔سی پیک کے حوالے سے اُنھوں نے کہا کہ ہماری جماعت سی پیک کی حمایت کرتی ہے یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہے ۔ 


وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔