نواز، مریم، محمد صفدر کی سزا معطلی کا فیصلہ مؤخر


 اسلام آباد( 24نیوز )  ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ  نے شریف فیملی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔

آج کی سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے اپنے دلائل مکمل کیے جس کے بعد عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا۔دوران سماعت نیب نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کیے اور عدالت عظمیٰ کے حکم پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ لندن فلیٹس نیلسن اور نیسکول کے نام پر تھے، ہم نے دستاویزات سے ثابت کردیا کہ ان کمپنیوں کے مالک نواز شریف ہیں اور یہ فلیٹس انہی کی ملکیت میں ہیں جب کہ ان فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنا نواز شریف کا ہی کام ہے۔نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ نواز شریف اور دیگر ملزمان کو جیل میں ہی رکھا جائے اور سزا معطل کرنے کی درخواست خارج کی جائے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ابھی کوئی فیصلہ فریقین کو متاثر کرسکتا ہے.

عام تعطیلات کے بعد یہ درخواستیں اپیل کے ساتھ سن لیتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کے قانون کے مطابق مقدمات فکس کرنے کے بعد فیصلہ دینا ہے، ہم سزا معطلی کی درخواستوں پر مناسب فیصلہ سنائیں گے۔بینچ میں شامل دونوں ججز نے مشاورت کی جس کے بعد عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ یہ جائیدادیں بے نامی دار کے نام پر تھیں، نیلسن کمپنی فلیٹ نمبر 16 کی 1995 سے مالک ہے، یہ ٹائٹل دستاویز 13 دسمبر2017 میں جاری ہوئی۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ نیلسن لمیٹڈ کی ملکیت کسی شخص کی تو نہیں ہے، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ فلیٹس جس کے قبضے میں ہیں کمپنی کا مالک بھی وہی ہوگا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ تفصیلات میں جارہے ہیں، اگر آپ اس آبزرویشن پر جائیں تو سزا ہونا ہی ہے، سپریم کورٹ نےحتمی نتیجہ اخذ کیے بغیر کیس ٹرائل کورٹ کوبھیجا، ہمیں ٹرائل کورٹ کی فائنڈنگز کو دیکھنا ہے۔واضح رہےکہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزائیں سنائیں جس کے بعد تینوں شخصیات اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

 

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito