جج ویڈیو سکینڈل:سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ ،کب سنایا جائے گا؟

جج ویڈیو سکینڈل:سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ ،کب سنایا جائے گا؟


اسلام آباد(24 نیوز )جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ 2 سے 3 روزمیں سنایا جائے گا،سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جج ارشد ملک کو واپس لاہور ہائیکورٹ بھیجا جائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ارشد ملک کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کوواپس کیوں نہیں کی جارہیں؟؟کیا جج ایسا ہوتا ہے جو سزا دینے کےلیے مجرم کے پاس جائے؟؟جج کے اس کردار سے ہزاروں ایماندار ججز کے سرشرم سے جھک گئے،اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ عدالت کی بات حکومت تک پہنچا کر جج کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیےکہ نوازشریف کی رہائی اور سزا کے خاتمے کے لیے ویڈیو فائدہ مند تب ہوگی جب کوئی درخواست دائر کی جائے گی۔جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس ۔۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،اٹارنی جنرل انور منصور خان اور ڈی جی ایف آئی اے پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا وہ مبینہ شخص سامنے آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کرایا۔تعینات کرانے کا دعویٰ ناصرجنجوعہ نے کیا۔۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مبینہ شخص سامنے نہیں آیا۔۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے اس وقت کی حکومت نے پانامہ فیصلے کے بعد ارشد ملک کی تعیناتی کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رپورٹ سے ابہام پیدا ہوا،ویڈیوزغالباً 2 تھیں۔قابل اعتراض ویڈیو وہ تھی جس سے جج کو بلیک میل کیا گیا۔دوسری ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی،لگتا ہے کسی نے ویڈیو کے ساتھ کھیلا ہے۔ چیف جسٹس کے استفسارپراٹارنی جنرل نے بتایا کہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرایا۔نئی ویڈیو کا فرانزک نہیں ہوسکا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے پورے پاکستان کے پاس ویڈیو ہے صرف ایف آئی اے کے پاس نہیں جس ویڈیو کا سوال ہورہاہے،اس کا فرانزک کیوں نہیں ہوا؟؟۔اٹارنی جنرل بولے ویڈیو یوٹیوب سے لی گئی اس لیے فرانزک نہیں ہوسکتا۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ پہلی وڈیو اصل ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا ویڈیو کی کاپی اوریوٹیوب ویڈیو کا فرانزک ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ جنہوں نے کہانی بنانے والے لاتعلق ہوگئے، چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ لاتعلقی کااظہار ایف آئی اے کےلیے مشکلات کا باعث ہے۔جج خود مان رہا ہے کہ اس کے اس خاندان سے تعلقات تھے۔وفاقی حکومت نے ارشد ملک کو ابھی تک اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے۔انہیں لاہور نہ بھجوا کرتحفظ دیا جارہا ہے۔عدالت تفتیش کی مانیٹرنگ نہیں کرسکتی۔جج کے کردار کی حد تک عدالت معاملہ دیکھ سکتی ہے۔

وکیل اکرام چوہدری نے استدعا کی کہ عدالت اس معاملے میں کمیشن بنائے یا تحقیقات کومانیٹر کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت مانیٹرنگ کرے تو اعتراض کیا جاتا ہے۔مانیٹرنگ نہ کریں تو کہا جاتا ہے مانیٹرنگ کریں،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو 2 سے 3 روز میں سنایا جائے گا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer