وزیر اعظم اور فاٹا سپریم کونسل کا جرگہ بغیر نتیجہ ختم

وزیر اعظم اور فاٹا سپریم کونسل کا جرگہ بغیر نتیجہ ختم


اسلام آباد (24 نیوز) حکومت اور قبائلی عمائدین کے جرگہ میں فاٹا اصلاحات بل پر معاملات طے نہ ہوسکے۔ قبائلی عمائدین اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ جرگہ نے واضح کیا کہ وہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے حامی نہیں۔ قومی اسمبلی جمعرات کے اجلاس کے ایجنڈے سے ایک بار پھر فاٹا اصلاحات بل کو نکال دیا گیا ۔وزیر سیفران نے بل جمعرات کو اسمبلی میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے فاٹا سپریم کونسل کے وفد کی کئی گھںٹے جاری رہنے والی ملاقات میں حتمی پیش رفت نہ ہو سکی۔ جرگہ نے فاٹا کو الگ تشخص دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حکومت کی طرف سے بیرسٹر ظفر اللہ نے معاملہ کے آئنی اور قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔

حکومت نے فاٹا سپریم کونسل کو قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ فاٹا سپریم کونسل نے گرینڈ جرگہ کو اعتماد میں لینے کی مہلت مانگ لی۔ فاٹا سپریم کونسل قبائلی عوام کو اعتماد میں لینے کے لئے گرینڈ جرگہ بلائے گی۔

فاٹا سپریم کونسل کے حکومت سے مزید مزاکرات بھی ہوں گے۔ حکومت اور قبائلی عمائدین کے جرگہ میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا گیا۔ قبائلی جرگہ کے عمائدین مولانا فضل الرحمن سے بھی مشاورت کریں گے۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد بریگیڈیئر ریٹائرڈ نذیر کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ہم اپنا احتجاج اپنی اعلان کردہ تاریخ پر کریں گے اور دھرنا بھی دیں گے۔

بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین نے وزیراعظم کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ فاٹا اصلاحات، ستر سال کا معاملہ 7 منٹ میں حل نہیں ہوسکتا۔ امید کرتے ہیں معاملہ بات چیت سے طے کر لیں گے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق کرنا چاہتے ہیں۔ فاٹا کے مستقبل کے معاملہ پر جمعرات کے روز بھی مشاورت جاری رہے گی۔