تبدیلی کے ڈیرے، چپڑاسی ڈاکٹر بن بیٹھا

تبدیلی کے ڈیرے، چپڑاسی ڈاکٹر بن بیٹھا


کرک(24نیوز) کرک کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں تبدیلی آگئی۔ چپڑاسی ڈاکٹر بن بیٹھا۔کسی کو خوف خدا ہے نہ خواتین کی عزت کالحاظ رہا۔مبینہ طور پر میڈیکل آفیسرڈاکٹر صوفیہ سجاد کی عدم موجودگی میں درجہ چہارم کے ملازم نے گائنی آپریشن کردیا۔سیکرٹری صحت نے نوٹس لےکر انکوائری کمیٹی بنادی۔

خیبرپختونخوامیں تبدیلی سرکارکے دور میں چپڑاسی بھی اب چپڑاسی نہیں رہے۔ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنےپر ڈاکٹر بن کرخواتین کے آپریشن بھی کرنے لگے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سہولت صرف خیبر پختونخوا میں دستیاب ہے۔

کرک کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں ہوا انوکھا واقعہ، ہوا کچھ یوں کہ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صوفیہ سجا دڈیوٹی سے غیرحاضر تھیں۔ اس صورتحال کا چپڑاسی نے خوب فائدہ اٹھایا۔ آپریشن تھیٹرمیں پہنچا ،اوزارپکڑے ، مریضہ کو لٹایا اور شروع کردیا گائنی آپریشن، وہ گھبرایا بھی نہیں اورشرمایا بھی نہیں اور تو اور خاتون کی حالت بھی خطرے سے باہرہے۔

آپریشن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو رولا پڑ گیا جس پر سیکرٹری صحت کوبھی ہوش آیا۔ واقعہ کانوٹس لے کر تحقیقات کےلئے دو رکنی کمیٹی قائم کردی جو سات روز میں رپورٹ پیش کرےگی۔ انکوائری میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ لیڈی ڈاکٹر کیوں غائب تھی اور چپڑاسی کو کس نے آپریشن کی اجازت دی؟

بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ پہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ پہلے بھی کئی واقعات ہوچکےہیں۔ اکثر درجہ چہارم کےملازم آپریشن تھیٹر میں ایسی ڈیوٹیاں کرتے رہتے ہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔