نواز شریف،زرداری کی متوقع گرفتاریاں۔۔۔کیا ہوگا؟

نواز شریف،زرداری کی متوقع گرفتاریاں۔۔۔کیا ہوگا؟


احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس پر وکلا کے دلائل مکمل ہو جانے کے بعد 24 دسمبر کو اس پر فیصلہ سنانے کا اعلان ہوا ہے۔ حکومتی ذمہ داران کی جانب سے ان بیانات پر کہ نواز شریف 24 دسمبر کو واپس جیل چلے جائیں گے۔

اسی طرح سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کیخلاف جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے ان کیخلاف منی لانڈرنگ اور مختلف بینک اکاﺅنٹس سے متعلق تحقیقات ہورہی ہیں،حکومتی عہدیداروں،خود آصف علی زرداری کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں جلد گرفتار کرلیا جائیگا،حکومت نے ان کیخلاف ریفرنس بھی دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے،یہ ریفرنس ان کے امریکہ میں فلیٹ کے انکشاف پر پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شیر زمان دائر کرینگے۔

اگر دونوں رہنما گرفتار ہوتے ہیں تو اس کا ملکی سیاست پر کیا اثرات ہونگے؟یہ سوال حکمرانوں کو پریشان کیے ہوئے،اس پر مختلف اندازے بھی لگائے جارہے ہیں۔

نواز شریف کے حوالے سے قبل از وقت عدالتی فیصلہ پر کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ فیصلہ کے حوالے سے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس فیصلہ کے اثرات ملکی حالات اور سیاسی محاذ پر ضرور ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت کی جانب سے 24 دسمبر کو فیصلہ کے اعلان کے بعد اعلیٰ سطح کے حکومتی سیاسی حلقوں میں فیصلہ اس کے اثرات اور اس پر اپنی اپنی حکمت عملی پر غور و خوض شروع ہے۔

ادھر ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ دونوں پارٹیاں اسے احتساب نہیں حکومت کی انتقامی کارروائی سمجھتی ہیں، پیپلز پارٹی نے تو دیگر اپوزیشن پارٹیوں سے رابطوں کیلئے کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی ہیں، آصف زرداری کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں شریک چیئرمین کی گرفتاری کی صورت میں احتجاج کی قیادت شہیدبے نظیر بھٹو کی کی بہن اور بلاول بھٹو کی خالہ صنم بھٹو کرینگی۔

سیاسی محاذ پر تاثر یہ غالب ہے کہ اگر نیب عدالت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا ہوتی ہے اور انہیں جیل جانا پڑتا ہے تو حکومت کو اس کا سیاسی فائدہ ضرور ہوگا۔ کیونکہ حکومت کی جانب سے اپنی کارکردگی سے زیادہ ان کی دلچسپی اپنے مخالفین خصوصاً شریف خاندان کی سیاست پر اثر انداز ہونا ہے۔ لہٰذا دیکھنا یہ ہوگا کہ اس فیصلہ کے اثرات مسلم لیگ ن پر کیا ہوں گے۔ ملکی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی، خصوصاً یہ کہ حکومت کو اطمینان اور ملک میں استحکام آ سکے گا۔بقول خورشید شاہ آصف زرداری اور نواز شریف کی ملاقات ہوسکتی ہے،سابق صدر جب اسلام آباد آئینگے تو قائد ن لیگ سے ملیں گے،حالیہ اقدامات سے حکومت فرق پڑے یا نہ پڑے اپوزیشن جماعتیں ضرور اکٹھی ہوجائینگی۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer