آئین پارلیمنٹ سے بالاتر، طاقت کا بھر پوراستعمال کریںگے: چیف جسٹس


اسلام آباد (24 نیوز) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کمزور ہیں نہ گھبرائیں گے، آئینی اختیارات اور طاقت کا نیک نیتی سے بھر پور استعمال کرینگے۔ بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ہے مگر آئین اس سے بھی اوپر ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سمجھ کے لیے سوالات کرتے ہیں، عدالت میں جو ہوتا ہے ہیڈلائن اس کے برعکس ہوتی ہے۔ وہ کمزور نہیں اور نہ ہی وضاحت دے رہے ہیں، طاقت کا بھرپور استعمال نیک نیتی سے کریں گے۔ ان کے لیے پارٹی لیڈرشپ مقدم ہے، پارٹی صدارت کے لیے صورت حال سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ آئندہ عدالت میں منہ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وہ کوئی وضاحت نہیں دے رہے نہ دینے کے پابند ہیں۔ کیا سوال پوچھنا کسی رکن اسمبلی کی تضحیک ہے؟ اس پر عدالت میں موجود سنیئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا، آپ نے جو ریمارکس دیئے ان کو غلط طریقے سے لیا جا رہا ہے، پراپیگنڈہ کرنے والوں پر توجہ نہ دیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بار بار کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، لیکن پارلیمنٹ سے بھی اوپر آئین ہے، ہر ادارے کے لیے کچھ حدود مقرر ہیں، کوئی بھی قانون سازی آئین سے متصادم نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا آزاد ادارہ نہیں اسے آزادہ بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں۔