میاں نوازشریف کی سزا معطل ہوگی یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

میاں نوازشریف کی سزا معطل ہوگی یا نہیں؟ فیصلہ محفوظ کرلیا گیا


اسلام آباد(24نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ہائی کورٹ نواز شریف کی درخواست ضمانت پر فیصلے کے لیے کازلسٹ جاری کرے گی۔ 

 نوازشریف کی سزامعطل ہوگی یانہیں؟اسلام آبادہائی کورٹ نےفیصلہ محفوظ کرلیا۔ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کی۔ نواز شریف کی صحت سے متعلق جناح اسپتال کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ نوازشریف کو نئی میڈیکل رپورٹ میں انجیوگرافی تجویز کی گئی ہے۔معاملہ اتنا سنجیدہ ہےکہ کوئی میڈیکل بورڈ یا ڈاکٹر ذمہ داری لینےکو تیار نہیں۔گردے کے مرض کا علاج کرنے والا ڈاکٹر کلیئرنس دے گا تو انجیو گرافی ہوگی۔نوازشریف کی بیماری کا علاج جیل میں ممکن نہیں۔ان کی جان کو خطرہ ہے۔

نیب پراسکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ نواز شریف کی درخواست قابل سماعت ہی نہیں۔ان کی پہلی دائر درخواست میں میڈیکل گراؤنڈز کا ذکر نہیں تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسے آئندہ ہفتے ہارٹ اٹیک ہو گا؟ نواز شریف کی صحت سے متعلق میڈیکل بورڈ ان کی درخواست پر نہیں بلکہ پنجاب حکومت نے خود بنایا؟ حکومت کو بھی ادراک ہے کہ انکی بیماری کی نوعیت کیا ہے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کا علاج ہو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، لاہور میں اسپتال موجود ہیں۔ 

اس دوران خواجہ حارث نے نوازشریف کی میڈیکل ہسٹری بھی عدالت میں پڑھ کر سنائی جس کے بعد سابق وزیراعظم کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔عدالت عالیہ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ہائی کورٹ نواز شریف کی درخواست ضمانت پر فیصلے کے لیے کازلسٹ جاری کرے گی۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔